LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں زندگی کے بڑے فیصلے: 30 سال کی عمر سب سے اہم

News Image
برطانیہ میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے اور تبدیلیاں 30 سال کی دہائی میں کرتے ہیں۔ ماضی میں 40 سال کو اہم موڑ سمجھا جاتا تھا لیکن اب تیس سال کی عمر زندگی کا نیا سنگ میل بن چکی ہے۔
ایک پرانی کہاوت تھی کہ زندگی 40 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے، لیکن حالیہ برطانوی تحقیق نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب برطانیہ کے شہری اپنی زندگی کے سب سے بڑے اور اہم فیصلے 30 سال کی دہائی میں کرتے ہیں۔ اس دہائی کو زندگی کا نیا 'اسٹارٹنگ پوائنٹ' قرار دیا جا رہا ہے جہاں لوگ اپنی پرانی روایات کو ترک کر کے نئے اور بڑے اقدامات اٹھانے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 30 سال سے 39 سال کے درمیان افراد زیادہ متحرک اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل شرکاء نے بتایا کہ ان کی زندگی کی بڑی تبدیلیوں میں بیرون ملک مستقل سکونت اختیار کرنا، طویل عرصے سے جاری کریئر کو تبدیل کر کے نئے شعبے میں قسمت آزمانا، اور اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 سال کی عمر تک پہنچنے پر انسان ذہنی طور پر زیادہ پختہ ہو چکا ہوتا ہے اور اپنے مالی و سماجی اہداف کے حوالے سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اس عمر میں نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں تبدیلی لائی جاتی ہے بلکہ رہائش اور ذاتی تعلقات میں بھی بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں جو طویل مدتی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق، اس عمر کے افراد اب اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انتظار کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماضی کے برعکس، جب لوگ ایک ہی ملازمت یا شہر سے جڑے رہنا پسند کرتے تھے، موجودہ نسل اپنی خوشی اور خود مختاری کے حصول کے لیے 'بڑی تبدیلی' سے گھبراتی نہیں ہے۔ ماہرین اسے زندگی کے معیارات میں بہتری لانے کا ایک مثبت رجحان قرار دے رہے ہیں، جہاں اب تیس سال کی عمر درحقیقت نئے مواقع کا دروازہ ثابت ہو رہی ہے۔ آخر میں، یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دور میں کامیابی کے پیمانے بدل چکے ہیں۔ تیس سال کی دہائی میں کیے گئے یہ فیصلے اکثر لوگوں کی زندگیوں کو ایک نیا رخ دینے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کسی دوسرے ملک میں جا کر نئی ثقافت اپنانا ہو یا کسی بالکل مختلف پیشے میں مہارت حاصل کرنا، برطانیہ کے نوجوانوں کے لیے یہ دہائی نئے عزم اور کامیابیوں کا دور ہے جو ان کے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔