Health
بچپن میں کم چینی کا استعمال ڈیمنشیا سے بچاؤ میں معاون: نئی تحقیق
برطانیہ میں جنگی دور کے راشن کے اعداد و شمار سے ثابت ہوا ہے کہ بچپن میں چینی کی محدود مقدار کا استعمال بڑھاپے میں ڈیمنشیا سے بچاؤ کا باعث بنتا ہے۔ یہ تحقیق انسانی صحت پر ابتدائی غذائی عادات کے دور رس اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
جدید طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں کے دوران چینی کا محدود استعمال طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ برطانوی دور کی جنگی راشننگ کے دوران جمع کیے گئے تاریخی اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے سائنسدانوں نے پایا کہ جن افراد نے اپنے بچپن کے اوائل میں چینی کی کم مقدار کا استعمال کیا، ان میں کئی دہائیوں بعد ڈیمنشیا کے خطرات نمایاں طور پر کم دیکھے گئے۔ یہ مطالعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انسانی جسم کی نشوونما کے ابتدائی مراحل میں غذائی عادات کا دماغی صحت پر گہرا اور دیرپا اثر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، زندگی کا پہلا مرحلہ، جس میں حمل کا دورانیہ اور پیدائش کے بعد کے دو سال شامل ہوتے ہیں، انسانی اعصابی نظام اور میٹابولک عمل کی بنیاد رکھتا ہے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگ جنگ کے دوران راشن کے سخت نظام کے تحت پروان چڑھے جہاں چینی اور میٹھے مشروبات کی دستیابی بہت کم تھی، ان میں بڑھاپے میں پہنچ کر یادداشت کے مسائل اور ڈیمنشیا کی تشخیص کی شرح ان لوگوں کے مقابلے میں کافی کم رہی جو بعد کے ادوار میں پیدا ہوئے اور زیادہ چینی والی خوراک استعمال کرتے رہے۔
اس تحقیق کے نتائج غذائیت کے ماہرین کے لیے ایک اہم اشارہ ہیں، جو والدین کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ بچوں کی ابتدائی خوراک میں چینی کو محدود رکھا جائے۔ محققین کا کہنا ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال جسم میں سوزش اور میٹابولک مسائل کا باعث بن سکتا ہے جو دہائیوں بعد دماغی تنزلی کا سبب بنتے ہیں۔ اگرچہ جینیاتی عوامل اور طرز زندگی کے دیگر پہلو بھی ڈیمنشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بچپن کی غذائی عادات کا اثر ناقابل تردید ہے، جو صحت مند مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخر میں، یہ تحقیق صحت عامہ کی پالیسیوں کے لیے بھی ایک رہنما اصول پیش کرتی ہے۔ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے تیار کردہ غذاؤں میں چینی کی مقدار کو کم کرنے کے لیے سخت ضوابط متعارف کرائیں۔ اس طرح کی احتیاطی تدابیر نہ صرف بچوں کو ابتدائی صحت کے مسائل سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ طویل مدت میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کے بوجھ کو بھی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔