Health
الزائمر کی تشخیص کے لیے پلازما پی-ٹاؤ 217 کا استعمال
طبی تحقیق کے مطابق خون کے پلازما میں پی-ٹاؤ 217 نامی بائیو مارکر کا استعمال الزائمر کی جلد تشخیص کے عمل کو مزید تیز اور درست بنا سکتا ہے۔ یہ نیا طریقہ کار طبی ٹرائلز کے لیے مریضوں کے انتخاب میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔
سائنسدانوں اور طبی ماہرین کی جانب سے الزائمر کی بیماری کی جلد تشخیص کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں خون کے پلازما میں موجود پی-ٹاؤ 217 (Plasma p-tau217) نامی بائیو مارکر کے کردار کو کلیدی قرار دیا گیا ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق یہ نیا ٹیسٹ مریضوں کی اسکریننگ اور کلینیکل ٹرائلز میں شرکت کے لیے بھرتی کے عمل کو بہتر بنانے میں ایک دوہرے کٹ آف طریقہ کار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے ان مریضوں کی شناخت ممکن ہو سکے گی جنہیں ابتدائی مرحلے میں ہی طبی مداخلت اور نئی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ پلازما پی-ٹاؤ 217 کا ٹیسٹ روایتی پیچیدہ اور مہنگے طریقہ کار، جیسے کہ ٹاؤ-پی ای ٹی (tau-PET) اسکین کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور قابلِ رسائی ہے۔ اسکیننگ کے عمل میں اکثر طویل انتظار اور بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم خون کے ٹیسٹ کے ذریعے یہ عمل بہت جلد مکمل کیا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طریقہ کار کو اپنانے سے نہ صرف ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا بلکہ الزائمر کے شکار افراد کو بروقت تشخیص کی سہولت بھی میسر آئے گی، جس سے بیماری کی پیش رفت کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دوہرے کٹ آف نقطہ نظر کو استعمال کرتے ہوئے وہ افراد جن میں الزائمر کے خطرات زیادہ ہیں، ان کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان کلینیکل ٹرائلز کے لیے بہت اہم ثابت ہوگی جہاں درست مریضوں کا انتخاب تحقیق کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہوتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ادویات کی تحقیق کے نتائج میں بہتری آئے گی بلکہ مستقبل میں الزائمر کے مریضوں کو زیادہ مؤثر اور ذاتی نوعیت کا علاج بھی فراہم کیا جا سکے گا۔ یہ پیش رفت نیورو ڈینجریٹو بیماریوں کے خلاف جنگ میں ایک امید کی کرن ثابت ہو رہی ہے۔