LIVE
Loading Breaking News...

آر این اے موڈیفکیشن اور جدید ماس اسپیکٹرو میٹری ٹیکنالوجی

News Image
محققین نے آر این اے میں ہونے والی تبدیلیوں کی سطح اور مقامات کا پتہ لگانے کے لیے ایک جدید ماس اسپیکٹرو میٹری طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے مالیکیولر بائیولوجی اور جینیاتی تحقیق میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے محققین نے آر این اے (RNA) میں ہونے والی تبدیلیوں کی درست نشاندہی اور ان کی سطح کو ماپنے کے لیے ماس اسپیکٹرو میٹری کا ایک جدید طریقہ کار تیار کیا ہے۔ آر این اے مالیکیولز میں موجود تبدیلیاں حیاتیاتی افعال کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، اور اب تک ان کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا ایک مشکل عمل رہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی پروٹیمکس میں استعمال ہونے والے آئسوبیرک ٹینڈم ماس ٹیگز سے متاثر ہو کر خاص طور پر آر این اے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اس تحقیق میں استعمال ہونے والا نیا طریقہ کار نہ صرف آر این اے کے مقامات کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ نیوکلیو بیس فریگمنٹ کے تجزیے کے ذریعے یہ بھی بتاتا ہے کہ ان تبدیلیوں کی سطح کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان اب آر این اے میں ہونے والے تغیرات کو زیادہ گہرائی اور درستگی کے ساتھ سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یہ تکنیک بائیو ٹیکنالوجی اور جینیاتی مطالعات میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، کیونکہ آر این اے میں ہونے والی تبدیلیاں بیماریوں کے علاج اور جین کے اظہار (gene expression) کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ ماس اسپیکٹرو میٹری کے ساتھ ان جدید ٹیگز کا استعمال آر این اے کی تبدیلیوں کے ڈیٹا کو زیادہ مقدار میں اور تیزی سے پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں اس طرح کی تحقیق کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا تھا، تاہم اب اس نئے طریقہ کار سے محققین آر این اے کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کا ایک جامع اور مستند خاکہ تیار کر سکیں گے۔ یہ پیش رفت آنے والے وقتوں میں کینسر اور دیگر موروثی بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کے نئے راستے ہموار کر سکتی ہے کیونکہ یہ براہ راست خلیوں کے بنیادی حیاتیاتی میکانزم سے جڑی ہوئی ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال سے نہ صرف بنیادی سائنسی تحقیق میں مدد ملے گی بلکہ دوا سازی کی صنعت میں بھی نئی ادویات کی تیاری کے لیے آر این اے ٹارگٹنگ میں مزید بہتری آئے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آر این اے موڈیفکیشن کی درست میپنگ بائیولوجیکل سائنسز میں ایک نیا باب رقم کرے گی، جس سے انسانی صحت اور جینیاتی بیماریوں کے خلاف لڑنے کی ہماری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔