LIVE
Loading Breaking News...

کوانٹم اسپیکٹروسکوپی اور بائیو مالیکیولر سینسنگ کی جدید ٹیکنالوجی

News Image
سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے محققین نے غیر مرئی فوٹونز کا استعمال کرتے ہوئے مڈ انفراریڈ اسپیکٹروسکوپی کی ایک جدید تکنیک تیار کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی حیاتیاتی مالیکیولز کی تشخیص اور سینسنگ کے عمل کو انتہائی درست اور موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی (UTS) کے سکول آف میتھمیٹیکل اینڈ فزیکل سائنسز کے محققین نے کوانٹم اسپیکٹروسکوپی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ماہرین نے ایک ایسی جدید تکنیک تیار کی ہے جس میں 'غیر مرئی فوٹونز' (undetected photons) کا استعمال کرتے ہوئے مڈ انفراریڈ (mid-infrared) ریجن میں بائیو مالیکیولر سینسنگ ممکن بنائی گئی ہے۔ یہ تحقیق سائنسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ روایتی اسپیکٹروسکوپی کی حدود کو چیلنج کرتی ہے۔ اس نئی تحقیق کے مطابق، مڈ انفراریڈ سپیکٹرم حیاتیاتی نمونوں کے تجزیے کے لیے انتہائی موزوں ہے، تاہم ماضی میں اس رینج میں حساس ڈیٹیکٹرز کی دستیابی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ کوانٹم آپٹکس کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، محققین نے یہ ثابت کیا ہے کہ غیر مرئی فوٹونز کا استعمال کرتے ہوئے ہم ان مالیکیولز کی شناخت کر سکتے ہیں جو بصری روشنی کے لیے پوشیدہ رہتے ہیں۔ یہ تکنیک نہ صرف لیبارٹری کے ماحول میں بلکہ طبی تشخیص کے لیے بھی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق، اس طریقہ کار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انتہائی کمزور سگنلز کے ساتھ بھی درست نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بائیو مالیکیولر سینسنگ میں اس پیش رفت کے ذریعے کینسر، انفیکشنز اور دیگر بیماریوں کی تشخیص کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مڈ انفراریڈ لائٹ مالیکیولز کی اندرونی ساخت اور کمپن (vibration) کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جو کہ بیماریوں کی ابتدائی علامات کو پہچاننے کے لیے ناگزیر ہے۔ مستقبل کے حوالے سے اس ٹیکنالوجی کا اطلاق پورٹیبل ڈیوائسز میں کیا جا سکتا ہے، جس سے طبی ماہرین کو فوری اور درست نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ مطالعہ کوانٹم فزکس اور بائیولوجیکل سائنسز کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کر رہا ہے۔ UTS کے محققین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ دریافت آنے والے وقتوں میں طبی آلات کی تیاری میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گی، جس سے مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی ٹیکنالوجی کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔