LIVE
Loading Breaking News...

جدید ترین آئن پروپلشن مائیکرو روبوٹ: پرواز اور ٹیکنالوجی کے نئے افق

News Image
محققین نے ایک ایسا انقلابی مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے جو آئن پروپلشن ٹیکنالوجی کے ذریعے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس روبوٹ کا وزن صرف 36.7 ملی گرام ہے اور یہ مربوط سینسنگ سسٹم کے ساتھ مستحکم پرواز کر سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے محققین نے ایک انتہائی ہلکے اور جدید ترین آئن سے چلنے والے مائیکرو روبوٹ کی کامیاب پرواز کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس روبوٹ کا وزن محض 36.7 ملی گرام ہے، جو اپنی نوعیت کی ٹیکنالوجی میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس روبوٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مربوط سینسنگ سسٹم اور آئی ایم یو (IMU) پر مبنی کلوزڈ لوپ فلائٹ کنٹرول ہے، جو اسے ہوا میں مستحکم انداز میں تیرنے اور پرواز کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس تخلیق نے روبوٹکس کے شعبے میں میکینیکل پرزوں کے بغیر پرواز کے امکانات کو روشن کر دیا ہے۔ اس روبوٹ کا ڈیزائن مکمل طور پر میکینیکل حصوں سے پاک ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں روایتی موٹرز یا گیئرز کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ آئن پروپلشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، یہ مائیکرو روبوٹ ہوا میں تھرسٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کا تھرسٹ ٹو ویٹ ریشو (thrust-to-weight ratio) انتہائی متاثر کن ہے۔ یہ خاصیت اسے چھوٹے پیمانے پر مستحکم ہوورنگ (hovering) کرنے اور درست سمت میں پرواز برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مستقبل میں ایسی ننھی مشینیں بنانا ممکن ہو سکے گا جو تنگ اور مشکل مقامات تک رسائی حاصل کر سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق، یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہت کم وزن کے ساتھ بھی پیچیدہ الیکٹرانک سسٹمز کو مربوط کرنا ممکن ہے۔ روبوٹ میں نصب سینسرز اور کنٹرول یونٹ اسے بیرونی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے اور پرواز کے دوران توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم اس کے اطلاقات مستقبل میں طبی امداد، نگرانی اور دیگر سائنسی تحقیق کے شعبوں میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ یہ چھوٹے سائز کے باوجود ایک خود مختار اور کنٹرول شدہ پرواز کی عمدہ مثال ہے۔