Politics
آر ڈی آئی فنڈ: حکومت نے شفافیت کے دعووں کی توثیق کر دی
حکومت نے ریسرچ، ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن فنڈ کے شفاف نظام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے مفادات کے تصادم کے تاثر کو مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی فنڈز کی تقسیم کے عمل میں انتہائی سخت پروٹوکولز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
حکومت نے ریسرچ، ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) فنڈ کے مجموعی فریم ورک اور اس کی شفافیت کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ حالیہ بیانات میں سرکاری حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی فنڈز کی تقسیم اور منصوبوں کی منظوری کے عمل میں مفادات کے تصادم (Conflict of Interest) سے بچاؤ کے سخت ترین پروٹوکولز کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق، اس نظام کی بنیادی روح میرٹ اور شفافیت ہے تاکہ انوویشن کو فروغ دیا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا ذاتی مفادات کے لیے فنڈز کا استعمال ممکن نہیں ہے کیونکہ ہر مرحلے پر سخت نگرانی کا عمل موجود ہے۔ آر ڈی آئی فنڈ کے حوالے سے اٹھنے والے تحفظات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ منصوبوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک غیر جانبدار اور آزاد کمیٹی کام کرتی ہے جس کا کام صرف قومی ترقی اور جدید تحقیق کو ترجیح دینا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے یہ فنڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی ساکھ پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوامی رقوم کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور کسی بھی سطح پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ فنڈز کی تقسیم میں کوئی غیر قانونی عمل دخل ہے اور کہا کہ تمام تر فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ آخر میں، حکومت نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ریسرچ اور انوویشن کے لیے مختص یہ فنڈز پوری طرح محفوظ ہیں اور ان کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے جدید آڈٹ کے طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ابہام کی گنجائش نہ رہے۔ یہ اقدامات ملکی ترقی کے سفر میں آر ڈی آئی فنڈ کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں اور تحقیق دوست ماحول کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔