Technology
ریم کی قلت کے باوجود کمپنیاں مہنگے ایپل لیپ ٹاپس کیوں ضائع کر رہی ہیں؟
ایک سابق ملازم نے انکشاف کیا ہے کہ ریم کی قلت کے عالمی بحران کے دوران ایک معروف کمپنی 48 جی بی ریم والے میک بکس کو ضائع کر رہی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے لیے درکار DRAM کی بھاری مانگ سے نبردآزما ہیں۔
عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے عروج اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی مانگ میں اضافے کے باعث ڈی ریم (DRAM) کی فراہمی میں شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اس صورتحال میں دنیا بھر کی کمپنیاں اپنے موجودہ ہارڈویئر کو محفوظ رکھنے اور اسے طویل عرصے تک قابلِ استعمال بنانے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں تاکہ قیمتی آلات کو ای-ویسٹ (الیکٹرانک کچرے) کے ڈھیر میں جانے سے روکا جا سکے۔ تاہم، اس ذمہ دارانہ رویے کے برعکس ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں ایک بڑی کمپنی کی جانب سے طاقتور ایپل میک بکس کو بے دردی سے تباہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔
ایک سابق ملازم کی جانب سے لیک کی گئی معلومات کے مطابق، ایک معروف فرم اپنے ورک سٹیشنز سے 48 جی بی ریم والے میک بکس کو ٹھکانے لگا رہی ہے، حالانکہ یہ مشینیں جدید ترین اور انتہائی مہنگی ہیں۔ ایسے وقت میں جب مارکیٹ میں ریم کی قلت کے باعث نئے آلات کا حصول مشکل اور مہنگا ہو چکا ہے، ان فنکشنل ڈیوائسز کو تباہ کرنا نہ صرف ایک بڑی مالی کوتاہی ہے بلکہ یہ ماحولیاتی مسائل اور ای-ویسٹ کے چیلنج میں بھی اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے آلات کو ری سائیکل کریں یا اپنے ملازمین کو فراہم کریں تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ اس واقعہ نے کارپوریٹ سیکٹر کی ہارڈویئر مینجمنٹ پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب جہاں ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے لیے بڑی مقدار میں ریم کے آرڈرز دے رہی ہیں، وہیں دوسری طرف موجودہ وسائل کا اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ٹیکنالوجی انڈسٹری کے اندر پائیداری کے دعووں کی قلعی کھولتا ہے۔ یہ انکشاف اب سوشل میڈیا اور ٹیک برادری میں ایک گرما گرم بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں صارفین کمپنی سے اس اقدام کی وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔