LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج: 16 اگست کو دھرنوں کا اعلان

News Image
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں 16 اگست کو ملک بھر کے صوبائی دارالحکومتوں میں بھرپور دھرنے دیے جائیں گے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور ملک میں آسمان کو چھوتی مہنگائی کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ جماعت کے مرکزی ترجمان کے مطابق، اتوار کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو مؤخر کرنے کے بعد اب 16 اگست کو ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں بھرپور دھرنوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ بننے والے ظالمانہ ٹیکسوں اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لیا جا سکے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں عوام مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں جاری حالیہ مظاہروں کے دوران شہریوں نے جس طرح حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف ردعمل دیا ہے، وہ حکمرانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ کے نظام میں تعطل پیدا ہوا ہے بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے یہ دھرنے حکومتی معاشی اصلاحات اور آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے اثرات کے خلاف ایک بڑا عوامی ردعمل ثابت ہوں گے۔ جنوبی وزیرستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاجی لہر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عوام میں مہنگائی اور عدم تحفظ کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا اور ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک احتجاج کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 16 اگست کے دھرنوں کو کامیاب بنانے کے لیے پارٹی کی ضلعی اور صوبائی سطح پر تیاریاں جاری ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ ان مظاہروں میں تاجر برادری، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ احتجاج نہ صرف پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہے بلکہ یہ موجودہ معاشی پالیسیوں کے خلاف ایک منظم عوامی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ عوامی غیض و غضب کو کیسے ٹھنڈا کرتی ہے، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔