LIVE
Loading Breaking News...

لاس اینجلس گودام میں آگ: سڑے ہوئے گوشت کی بدبو سے شہری پریشان

News Image
امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک بڑے گودام میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہزاروں ٹن مرغی اور مچھلی کا گوشت سڑ گیا ہے جس سے پیدا ہونے والی بدبو نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکام کے لیے اس بڑی مقدار میں موجود تعفن زدہ گوشت کو تلف کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
امریکی شہر لاس اینجلس میں حال ہی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ شہر کے ایک بڑے گودام میں لگنے والی خوفناک آگ نے نہ صرف عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے بلکہ اس کے اندر موجود ہزاروں ٹن مرغی، پولٹری اور مچھلی کا ذخیرہ بھی مکمل طور پر ضائع ہو گیا ہے۔ آگ بجھ جانے کے کئی روز بعد بھی اس ملبے سے اٹھنے والی ناقابل برداشت بو نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے ایک سنگین ماحولیاتی اور صحت کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ گرم موسم کے باعث ملبے کے نیچے دبا ہوا گوشت تیزی سے گل سڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے شدید بدبو پیدا ہو رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ بو اتنی شدید ہے کہ گھروں کی کھڑکیاں بند ہونے کے باوجود اندر تک محسوس ہوتی ہے۔ مزید براں، سڑا ہوا گوشت مکھیوں، مچھروں اور چوہوں کے لیے بہترین آماجگاہ بن چکا ہے، جس سے علاقے میں وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر صفائی کے اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے لیے اس ضائع شدہ سامان کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں سڑے ہوئے گوشت کو تلف کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کو مزید آلودگی سے بچایا جا سکے۔ گودام کے مالک اور متعلقہ محکموں کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے تاکہ جلد از جلد اس ملبے کو اٹھایا جا سکے۔ تاہم، صفائی کا عمل سست روی کا شکار ہونے پر مقامی عوام میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقے کے قریب رہنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف شہر کی فضا کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کب تک اس بدبودار ملبے کو ہٹا کر علاقے کو دوبارہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔