World
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی بڑھتی جارحیت اور فلسطینیوں کی مشکلات
مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ بیت اللحم کے قریب مقیم مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کی زرعی زمینوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ انہیں روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال دن بدن کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں فلسطینیوں کو نہ صرف اپنی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے جاری پرتشدد کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔ بیت اللحم کے نواحی دیہاتوں میں مقیم فلسطینی خاندانوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے آباد کاروں کے حملوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے جس نے ان کی معمول کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق آباد کاروں کے گروہ اکثر و بیشتر زرعی زمینوں پر دھاوا بولتے ہیں، فصلیں تباہ کرتے ہیں اور فلسطینی کسانوں کو ان کے اپنے ہی کھیتوں میں کام کرنے سے روکتے ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں کئی فلسطینی خاندان اپنی آبائی زمینوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ حملے اکثر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے جاتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا جا سکے۔ بیت اللحم کے متاثرین نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ان کی زرعی اراضی ان کی معاش کا واحد ذریعہ ہے، لیکن آباد کاروں کی جارحیت اور انتظامیہ کی خاموشی نے ان کے لیے زندگی گزارنا محال کر دیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، ان پر ہونے والے حملوں کے باوجود قانونی چارہ جوئی کا عمل انتہائی سست ہے، جس سے آباد کاروں کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینوں پر قبضے کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو بری طرح نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایک طرف فلسطینیوں کو اپنی زمینیں بچانے کے لیے سخت جدوجہد کا سامنا ہے تو دوسری طرف آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے مقامی فلسطینیوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو یہ کشیدگی پورے خطے کو مزید بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ بیت اللحم کے رہائشیوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مظالم کا نوٹس لیں اور فلسطینی کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ تب تک، فلسطینی باشندے اپنے گھروں اور زمینوں کے دفاع کے لیے اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔