LIVE
Loading Breaking News...

یمن جنگ: مآرب میں حوثیوں اور سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں تیز

News Image
یمن میں سرکاری افواج نے مآرب پر حوثیوں کی جانب سے تازہ ترین گولہ باری کے جواب میں جوابی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں تنازع کے مزید پھیلنے کے تمام خدشات موجود ہیں۔
یمن کے محصور شہر مآرب میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں حوثی باغیوں کی جانب سے تازہ ترین گولہ باری کے بعد سرکاری فوج نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے رہائشی علاقوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے جس کے جواب میں سرکاری فوج نے اپنی دفاعی پوزیشنوں کو مضبوط کرتے ہوئے پیش قدمی کی ہے۔ یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب عالمی سطح پر یمن میں قیامِ امن کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سویلین آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ اس صورتحال پر بین الاقوامی مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مآرب میں ہونے والی یہ تازہ گولہ باری اور سرکاری فوج کا جوابی حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن میں جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’جنگ کے تمام تر خطرے کے اشارے موجود ہیں‘ اور اگر جلد ہی کشیدگی کو کم نہ کیا گیا تو یہ لڑائی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے جس سے پہلے ہی انسانی بحران کے شکار یمنی عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ یمنی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور باغیوں کو کسی بھی قیمت پر مآرب پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے مندوبین نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ مآرب، جو کہ تیل کے ذخائر سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا تزویراتی مرکز بھی ہے، طویل عرصے سے جنگ کا بنیادی ہدف رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ اگر مآرب کا دفاع کمزور پڑا تو یہ پورے ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ آنے والے دن یمن کے مستقبل اور امن مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔