LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور امریکہ: آبنائے ہرمز کے تنازعہ پر تازہ ترین پیش رفت

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنے کیے گئے وعدے پورے کرنا ہوں گے جبکہ عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ ہی کافی نہیں بلکہ امریکہ کو پابندیاں اٹھانا اور خطے میں دھمکیاں بند کرنا ہوں گی۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تب ہی ممکن ہوگا جب امریکہ اپنے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب جنگ کے خاتمے کا بہترین وقت ہے کیونکہ ایران خود کو اس تنازعہ میں فاتح سمجھتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان کے ساتھ نئی شپنگ ارینجمنٹس پر بات چیت حتمی مراحل میں ہے، تاہم ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ آبنائے کو کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات انتہائی مثبت رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک نئے شپنگ روٹ پر متفق ہونے کے قریب ہیں۔ تاہم، آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے ایران نے امریکہ کے سامنے کئی سخت شرائط رکھی ہیں۔ ان مطالبات میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، اثاثوں کی بحالی، اور خطے میں ایران سمیت اس کے اتحادیوں کے خلاف فوجی جارحیت اور دھمکیوں کا مکمل بند ہونا شامل ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک یہ بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، تب تک آبنائے پر کنٹرول برقرار رہے گا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ان کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے؛ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ ایران تیل کی ترسیل کو معمول پر لائے گا اور کوئی اضافی ٹول ٹیکس نہیں لگائے گا۔ تاہم، سابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو آبنائے کے انتظامی امور میں کوئی بھی کردار دینا امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ادھر امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کی جانب سے مبینہ طور پر ایک 'آف ریمپ' یعنی جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ وہ مسلسل ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو خبردار کر رہے ہیں کہ فوجی آپشنز کے ذریعے مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس پیچیدہ صورتحال میں عالمی منڈیوں کی نظریں آبنائے ہرمز کی بحالی پر مرکوز ہیں کیونکہ یہ دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔