LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: پونچھ ڈویژن میں پولنگ کی تاریخ کا اعلان

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پونچھ ڈویژن کی باقی ماندہ نشستوں پر انتخابات 20 یا 21 اگست تک کرائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے باغ اور حویلی میں جاری انتخابی عمل کو مکمل کرنے کے لیے تمام سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں باغ اور حویلی کے اضلاع میں انتخابی عمل کو مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ پونچھ ڈویژن کے باقی سات حلقوں میں پولنگ کا عمل 20 یا 21 اگست تک مکمل کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس مغل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئندہ سات روز کے اندر پونچھ اور سدھنوتی کے لیے انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ووٹرز کو مہم چلانے کا مناسب وقت فراہم کرنا کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ پونچھ ڈویژن کل 11 حلقوں پر مشتمل ہے، جن میں باغ کے تین، حویلی کا ایک، پونچھ کے پانچ اور سدھنوتی کے دو حلقے شامل ہیں۔ یہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 11 لاکھ 54 ہزار 626 ہے۔ فی الحال باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے، جہاں 4 لاکھ 60 ہزار 371 ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان حلقوں میں 803 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں 82 امیدوار میدان میں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے عمل کو یقینی بنائیں کیونکہ ووٹ ڈالنا نہ صرف ایک جمہوری حق ہے بلکہ یہ ایک قومی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے جسٹس مغل نے بتایا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر آٹھ آٹھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج کی نگرانی میں انتخابی مواد کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن باغ اور حویلی میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہے تاکہ نتائج کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی حدود میں کام کر رہا ہے اور انتخابات کے مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کے بارے میں سوال پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قانونی طور پر حلف اٹھانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، تاہم اخلاقی طور پر بہتر ہے کہ ایوان کا عمل مکمل ہونے تک حلف نہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ اور سدھنوتی کے نتائج کے بعد جب ایوان مکمل ہو جائے گا، تو پھر مخصوص نشستوں اور اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی باغ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے حکومت بنائے گی۔