LIVE
Loading Breaking News...

کرپٹو مارکیٹ: سی زیڈ نے آسیان ممالک میں لائسنسنگ کے یکساں نظام پر زور دیا

News Image
بائننس کے شریک بانی سی زیڈ نے آسیان خطے میں کرپٹو لائسنسنگ کو آسان بنانے کے لیے ایک مشترکہ پاسپورٹنگ سسٹم کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے تعمیل کے اخراجات میں کمی آئے گی اور ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت میں مسابقت بڑھے گی۔
بائننس کے شریک بانی اور سابق سی ای او چانگ پینگ ژاؤ، جنہیں دنیا بھر میں 'سی زیڈ' کے نام سے جانا جاتا ہے، نے آسیان (ASEAN) ممالک میں کرپٹو کرنسی لائسنسنگ کے لیے 'پاسپورٹنگ' سسٹم کو اپنانے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آسیان ممالک ایک دوسرے کے لائسنسنگ معیارات کو تسلیم کرنا شروع کر دیں، تو یہ پورے خطے میں ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔ پاسپورٹنگ کا یہ تصور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی کمپنی ایک ملک میں لائسنس حاصل کر لیتی ہے، تو وہ اسی لائسنس کی بنیاد پر دوسرے آسیان ممالک میں بھی اپنی خدمات بغیر کسی اضافی ریگولیٹری بوجھ کے فراہم کر سکے گی۔ سی زیڈ کے مطابق، موجودہ پیچیدہ ریگولیٹری نظام کرپٹو کمپنیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ ہر ملک کے لیے الگ لائسنس لینا نہ صرف مہنگا عمل ہے بلکہ اس میں وقت بھی بہت زیادہ ضائع ہوتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایک مربوط سسٹم قائم کرنے سے تعمیل کے اخراجات (compliance costs) میں نمایاں کمی آئے گی اور چھوٹی کمپنیاں بھی مارکیٹ میں آسانی سے داخل ہو سکیں گی، جس سے مجموعی طور پر مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سی زیڈ کی یہ تجویز عالمی کرپٹو منظرنامے میں ریگولیٹری ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگر آسیان کے دس رکن ممالک اس تجویز پر اتفاق کرتے ہیں، تو یہ خطہ عالمی سطح پر کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اس سے ریگولیٹرز کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ انہیں الگ الگ کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے بجائے ایک مشترکہ معیار پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم، اس منصوبے کے عملی نفاذ کے لیے آسیان ممالک کے درمیان گہرا تعاون اور پالیسیوں میں یکسانیت لانا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ ہر ملک کے اپنے مالیاتی قوانین ہیں، جنہیں تبدیل کرنا یا ان میں ترمیم کرنا وقت طلب عمل ہوگا۔ اس کے باوجود، بائننس جیسی بڑی عالمی کمپنی کے شریک بانی کی طرف سے اس تجویز نے ایشیائی منڈیوں میں کرپٹو ریگولیشن کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس سے آنے والے وقتوں میں بڑے پالیسی فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔