Health
340B ڈرگ پروگرام میں اصلاحات: ادویات کی فراہمی کے نئے قوانین
امریکی حکومت نے 340 بی ڈرگ پروگرام کے تحت ہسپتالوں کو ملنے والی ادویات کی رعایت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ اب کچھ مخصوص ادویات کے لیے پیشگی ادائیگی کے بجائے ریبیٹ سسٹم کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے سیفٹی نیٹ ہسپتالوں اور کلینکس کے لیے 340 بی ڈرگ پروگرام کے تحت ادویات کی خریداری کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کا پائلٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت، مخصوص ادویات کی ایک محدود تعداد کے لیے ہسپتالوں کو اب پیشگی رعایت کے بجائے پوری قیمت ادا کرنی ہوگی اور بعد ازاں ریبیٹ (واپسی رقم) کا انتظار کرنا ہوگا۔ یہ اقدام فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں ادویات کی قیمتوں کے تعین اور سرکاری ڈسکاؤنٹ کے نظام کو مزید شفاف بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی ان ہسپتالوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے جو کم آمدنی والے مریضوں کو سستی ادویات فراہم کرنے کے لیے 340 بی پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔ فی الحال، یہ پروگرام ہسپتالوں کو آؤٹ پیشنٹ ادویات پر نمایاں رعایت فراہم کرتا ہے، جس سے وہ پسماندہ طبقات کو طبی سہولیات کی فراہمی جاری رکھتے ہیں۔ تاہم، نئے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت پیشگی قیمت کی ادائیگی سے ہسپتالوں کے نقد بہاؤ (کیش فلو) پر منفی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ ریبیٹ کی رقم وصول ہونے تک انہیں مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ اس پائلٹ پروگرام کا مقصد ادویات کی قیمتوں کے شفاف میکانزم کو یقینی بنانا ہے تاکہ سرکاری فنڈز کا درست استعمال ہو سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدام حکومت کے لیے مالیاتی کنٹرول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس سے صحت کے مراکز کی ادویات خریدنے کی صلاحیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔ ہسپتال انتظامیہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تبدیلی کے نفاذ سے قبل زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تاکہ مریضوں کو ملنے والی سہولیات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
آنے والے مہینوں میں اس پائلٹ پروگرام کے نتائج کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو حکومت اسے مزید ادویات اور بڑے پیمانے پر لاگو کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ فی الحال، ہسپتالوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اس نئے نظام کے مطابق اپنی مالی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صحت کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ وفاقی سطح پر ادویات کی قیمتوں کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر امریکی ہیلتھ کیئر سسٹم پر مرتب ہوں گے۔