LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ایسٹرا میں ہیکنگ کی صلاحیتوں کا انکشاف

News Image
اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا نیا آنے والا بڑا لینگوئج ماڈل 'ایسٹرا' سائبر سیکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ ماڈل پیچیدہ ہیکنگ کے کاموں میں مہارت دکھا سکتا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دنیا میں صف اول کی کمپنی 'اوپن اے آئی' نے ایک پریشان کن انکشاف کیا ہے کہ ان کا حال ہی میں تیار کردہ نیا لینگوئج ماڈل، جسے 'ایسٹرا' (Astra) کا نام دیا گیا ہے، سائبر سیکیورٹی کے لحاظ سے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بلاگ پوسٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ ماڈل ہیکنگ سے متعلقہ پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انٹرنیٹ اور ڈیٹا سیکیورٹی پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ایسٹرا ماڈل کو جب مختلف حفاظتی اور تکنیکی ٹیسٹ سے گزارا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ماڈل نہ صرف سسٹم کی کمزوریوں کو تلاش کر سکتا ہے بلکہ انہیں استعمال میں لا کر غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ کمپنی نے انکشاف کیا کہ یہ نیا ماڈل 10 کے قریب ایسے پیچیدہ ٹاسک حل کرنے میں کامیاب رہا ہے جو عام طور پر انسانی مہارت کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں اب اتنی بڑھ چکی ہیں کہ وہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسٹرا جیسے ماڈلز کی ہیکنگ کی صلاحیتیں جہاں ایک طرف تحقیق کے لیے مفید ہو سکتی ہیں، وہیں دوسری طرف سائبر مجرموں کے لیے ایک ہتھیار بھی بن سکتی ہیں۔ اوپن اے آئی نے اس خدشے کے پیش نظر ابھی تک اس ماڈل کو عوام کے لیے ریلیز نہیں کیا ہے اور وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اسے کس طرح محفوظ بنایا جائے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں گے تاکہ اس ماڈل کا غلط استعمال ممکن نہ رہے۔ یہ صورتحال آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں ریگولیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز کی ذہانت میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے ان کی طاقت کو کنٹرول کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اوپن اے آئی کا یہ حالیہ اقدام ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داریوں کو بھی بڑھاتا ہے کہ وہ نئے ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے ان کے اخلاقی اور سیکیورٹی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیں۔