LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سیلاب کا خطرہ: این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

News Image
این ڈی ایم اے نے پاکستان بھر میں دریائی بہاؤ میں اضافے کے پیش نظر نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مون سون کی بارشوں سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مزید بارشوں کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں دریائی بہاؤ میں مسلسل اضافے اور موسمیاتی صورتحال کے پیش نظر نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے جس سے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پاکستان میں جاری مون سون کی تباہ کاریوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مختلف صوبوں میں مکانات گرنے، سڑکیں بہہ جانے اور بجلی کے نظام درہم برہم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خاص طور پر لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے باعث سڑکیں، انڈر پاسز اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور شہری انتظامیہ پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوشاں ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس سے دریائی بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان حالات میں دریائے چناب، جہلم اور راوی کے قریبی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو کنٹرول رومز فعال رکھنے اور امدادی سامان کو بروقت پہنچانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز بھی جاری ہیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، این ڈی ایم اے تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ نقصانات کا بروقت تخمینہ لگایا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور دریاؤں یا برساتی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں۔ حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے خصوصی فنڈز کے اجرا اور ریلیف کیمپ قائم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں موسمی صورتحال مزید چیلنجنگ ہو سکتی ہے، لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔