LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس میں 5336 پوائنٹس کا اضافہ

News Image
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس نے 5,336 پوائنٹس کی بڑی چھلانگ لگا دی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث انڈیکس میں یہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں گزشتہ دنوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد اچانک ایک زبردست تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE-100 انڈیکس میں 5,336 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کے آغاز سے ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری دیکھی گئی، جس نے انڈیکس کو بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں یہ تیزی بنیادی طور پر مختلف شعبوں میں حکومتی پالیسیوں اور معاشی استحکام کی توقعات کے باعث آئی ہے۔ اس سے قبل، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے، جس کے باعث انڈیکس دباؤ کا شکار تھا۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران مارکیٹ میں فروخت کا رجحان غالب رہا اور انڈیکس منفی زون میں بند ہوتا رہا۔ تاہم، موجودہ سیشن میں سرمایہ کاروں نے دوبارہ مارکیٹ میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے مارکیٹ کے حجم اور ٹریڈنگ ویلیو میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر معاشی اشاریے مستحکم رہتے ہیں، تو یہ تیزی کا تسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔ مارکیٹ کے مجموعی جائزے کے مطابق، مختلف شعبوں بشمول بینکنگ، توانائی، اور سیمنٹ سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ کاروباری ہفتے کے دوران اگرچہ اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، لیکن ہفتے کے اختتام پر 5,336 پوائنٹس کا اضافہ مارکیٹ کے لیے ایک مثبت علامت سمجھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز میں مستقبل کے معاشی فیصلوں اور کارپوریٹ نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اعتماد میں بہتری آ رہی ہے، تاہم عالمی منڈیوں کے اثرات اور تیل کی قیمتوں میں تبدیلیوں پر نظر رکھنا اب بھی مارکیٹ کے لیے ناگزیر ہے۔ آخر میں، مارکیٹ کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں اس قسم کی تیزی کے لیے مستحکم سیاسی حالات اور معاشی اصلاحات کا نفاذ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انڈیکس میں 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ یقیناً سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند ہے، تاہم اب مارکیٹ کو اس لیول کو برقرار رکھنے کے لیے مزید مثبت خبروں اور بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رجحان ان عوامل پر منحصر ہوگا کہ حکومت ملکی معیشت کو کس سمت لے کر چلتی ہے۔