World
برطانیہ: شدید گرمی اور خشک سالی کی صورتحال پر تشویش
برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے اور بارش کے کوئی امکانات نہ ہونے کے باعث حکام نے مزید علاقوں میں خشک سالی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری گرم موسم نے آبی ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
برطانیہ میں جاری شدید گرمی کی پانچویں لہر نے ملکی نظام زندگی کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں کسی نمایاں بارش کی پیش گوئی نہ کیے جانے کے بعد ماہرین نے ملک کے مزید علاقوں میں خشک سالی (ڈراؤٹ) کے اعلان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ برطانیہ کے بڑے حصے پہلے ہی شدید گرم موسم کی لپیٹ میں ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبی ذخائر کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور حکام کی جانب سے پانی کے محتاط استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی کے باعث زمین میں نمی کا تناسب انتہائی کم سطح پر آ گیا ہے، جس کا براہ راست اثر زراعت اور دیہی علاقوں کے پینے کے پانی پر پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں گرمی کے پارے نے گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اگر آئندہ چند روز تک بارش کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا تو انتظامیہ کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھانا پڑ سکتے ہیں، جس سے گھریلو اور تجارتی سطح پر پانی کے استعمال پر مزید پابندیاں عائد ہونے کا امکان ہے۔
حکومتی سطح پر بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس کیا جا رہا ہے اور مقامی کونسلز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانی کی بچت کے لیے متبادل حکمت عملی تیار رکھیں۔ دوسری جانب عام شہریوں میں بھی گرمی کی شدت اور خشک سالی کے باعث پریشانی دیکھی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہیٹ ویو کا بار بار وقوع پذیر ہونا ماحولیاتی تغیرات کا نتیجہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ مقامی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی ضائع کرنے سے گریز کریں تاکہ خشک سالی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
ملک بھر میں جاری ہیٹ ویو کے دوران صحت کے ماہرین نے بھی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور اپنی جسمانی آبی ضروریات کو پورا رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔ آئندہ ہفتے کا موسم بھی انتہائی گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث نہ صرف خشک سالی کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے بلکہ جنگلات میں آگ لگنے جیسے واقعات کے خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔