Pakistan
لاہور میٹرو بس سروس کی بندش، ایندھن کے بحران پر حکومت اور نجی کمپنی آمنے سامنے
لاہور میں میٹرو بس چلانے والی نجی کمپنی نے ایندھن کے اخراجات اور حکام سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 11 اگست سے آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے اس اقدام کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
لاہور میں گجو متہ سے شاہدرہ تک 27 کلومیٹر طویل روٹ پر میٹرو بس سروس چلانے والی نجی کمپنی نے شدید مالی بحران اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 11 اگست سے اپنی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ حتمی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (PMA) کے ساتھ گزشتہ کئی دنوں سے جاری مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور اتھارٹی نے عدالتی احکامات کے باوجود ایندھن کی فراہمی میں تعاون نہیں کیا، جس کی وجہ سے کمپنی اب مزید آپریٹ کرنے کے قابل نہیں رہی۔ کمپنی کا موقف ہے کہ جب یہ منصوبہ شروع ہوا تھا تو ڈیزل کی قیمت 105 روپے فی لیٹر تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ قیمتوں میں اضافے نے کمپنی کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ اپنی جیب سے اخراجات پورے کر رہی ہے۔
دوسری جانب پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے نجی کمپنی کے اس فیصلے کو حکومت کو بلیک میل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے شدہ شرائط کے مطابق چل رہا ہے اور وہ فی کلومیٹر کے حساب سے ادائیگی کر رہے ہیں۔ اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ عدالت کے حالیہ احکامات، جن میں پی ایم اے کو ازخود ایندھن فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی منظوری کے بغیر اضافی اخراجات اٹھانا ممکن نہیں ہے، تاہم متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس تنازع کی جڑ عدالت کا وہ حکم ہے جس میں اتھارٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر خود ایندھن فراہم کرے۔ نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ 29 جولائی کی عدالتی وضاحت کے بعد اتھارٹی کے لیے اس فیصلے پر عمل درآمد لازمی ہے، جبکہ پی ایم اے کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ معاہدے میں موجود آرٹریٹر (ثالث) کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر 11 اگست تک ایندھن کی فراہمی شروع نہ ہوئی تو بس سروس مکمل طور پر معطل کر دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ لاہور میٹرو بس سروس پاکستان کا پہلا جدید ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے جو فروری 2013 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس سروس کے بند ہونے سے ہزاروں روزانہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہر سے بسیں منگوانے سمیت دیگر متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں تاکہ شہر کی لائف لائن سمجھی جانے والی اس سروس کو کسی نہ کسی طرح فعال رکھا جا سکے۔