Pakistan
گلگت بلتستان میں سونے کی کان کنی کے ماحولیاتی اثرات اور حکومتی کارروائی
گلگت بلتستان کے دریاؤں اور ندی نالوں میں سونے کی غیر قانونی کان کنی سے ماحولیاتی تباہی کے ساتھ ساتھ دیامر بھاشا ڈیم اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں۔
گلگت بلتستان کے دریاؤں اور ندی نالوں میں سونے کی تلاش کے لیے جاری غیر قانونی اور غیر منظم کان کنی کا عمل خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ سرگرمیاں نہ صرف قدرتی حسن کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ دیامر بھاشا ڈیم، شاہراہوں، پلوں، اور دریائی کناروں پر آباد انسانی بستیوں کی سالمیت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اشتراک سے کی جانے والی یہ کان کنی ماحولیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس سے پانی، ہوا اور زمین کی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
گلگت بلتستان انوائرمینٹ پروٹیکشن ایجنسی (جی بی ای پی اے) کے ڈائریکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ کان کنی کے دوران بھاری مشینری کا استعمال اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی لانا تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ کان کنی کے دوران جنریٹرز سے خارج ہونے والا تیل، کیمیکلز، اور بغیر فلٹر کیا ہوا گندہ پانی براہ راست دریاؤں میں شامل کیا جا رہا ہے، جسے مقامی آبادی پینے اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ، دریا کے کناروں پر حفاظتی دیواریں بنانے اور زمینی کھدائی سے پانی کا رخ بدل رہا ہے، جس سے سڑکوں اور پلوں کے نیچے کی زمین کٹاؤ کا شکار ہو کر کمزور ہو رہی ہے۔
حکومتی اقدامات کے تحت حال ہی میں ہنزہ کے علاقے نصیر آباد میں ایک کان کنی کمپنی پر دس لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کرکے ان کے آپریشنز کو معطل اور دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ تاہم جی بی ای پی اے اور محکمہ معدنیات کا اعتراف ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث تمام مقامات پر کڑی نگرانی کرنا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ واپڈا نے بھی دیامر بھاشا ڈیم کے ریزروائر ایریا میں جاری کان کنی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈیم کے منصوبے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس غیر قانونی کان کنی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال میں انفراسٹرکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کو اب اس حوالے سے سخت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ناصرف قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے بلکہ عوامی جان و مال اور قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کو بھی ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔