Education
پونچھ میڈیکل کالج راولاکوٹ کی بندش، سینکڑوں طلبا کا مستقبل داؤ پر
آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ میں جاری احتجاجی دھرنوں کے باعث میڈیکل کالج کی بندش سے 500 طلباء کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے سول سوسائٹی اور منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ کالج کو فوری کھولنے میں کردار ادا کریں۔
آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ میں جاری کشیدہ صورتحال اور دھرنوں کے باعث راولاکوٹ کا پونچھ میڈیکل کالج مسلسل بند ہے، جس سے وہاں زیر تعلیم 500 طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کالج کے قریب عیدگاہ کے مقام پر جاری دھرنوں اور وہاں موجود شر پسند عناصر کی جانب سے راستوں کی بندش اور غیر قانونی چیکنگ کے باعث کالج کا تعلیمی و انتظامی عمل گزشتہ دو ماہ سے بری طرح متاثر ہے۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ سید ممتاز کاظمی نے ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا ہے کہ اگر کالج کو 10 اگست تک دوبارہ فعال نہ کیا گیا تو طلباء کے لیے ناقابل تلافی تعلیمی نقصان ہو سکتا ہے۔ کالج کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے شیڈول کے مطابق 15 اگست سے انٹرنل اسیسمنٹ شروع ہونی ہے، جس کے لیے بائیو میٹرک حاضری اور تین روزہ امتحانات کا انعقاد فوری طور پر ضروری ہے، بصورت دیگر طلباء کا پورا تعلیمی سال ضائع ہو جائے گا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پونچھ میڈیکل کالج میں نہ صرف پونچھ کے اضلاع بلکہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی زیر تعلیم ہیں۔ آزاد کشمیر کے دیگر میڈیکل کالجز بشمول مظفرآباد اور میرپور میں تعلیمی سرگرمیاں تین ہفتے قبل بحال ہو چکی ہیں، تاہم راولاکوٹ میں صورتحال کی وجہ سے یہاں کا تعلیمی معیار اور یونیورسٹی کی درجہ بندی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ کالج کی بندش صرف موجودہ طلباء تک محدود نہیں بلکہ اس کا اثر زیر التواء نرسنگ کالج کی رجسٹریشن پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کا معائنہ اگست کے دوسرے ہفتے میں متوقع تھا، اور اگر کالج نہ کھولا گیا تو پونچھ ضلع اس اہم تعلیمی سہولت سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے سول سوسائٹی، عوامی نمائندوں اور مقامی عمائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور کالج کو بحال کروانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ایک جامع سکیورٹی پلان تشکیل دینے کے لیے تیار ہے تاکہ طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو طلباء کو دوسرے میڈیکل کالجز میں منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچے گا، جو کہ پونچھ سمیت پورے آزاد کشمیر کے لیے ایک بڑا تعلیمی نقصان ہوگا۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ آئندہ ڈاکٹروں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کالج کے راستوں کو صاف کرنے اور تعلیمی ماحول کی بحالی میں تعاون کریں۔