Pakistan
سپریم کورٹ کا بی آئی ایس پی ریٹیلر کیس پر اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے بی آئی ایس پی کے ریٹیلر کی جانب سے کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا ہے۔ عدالت نے بی آئی ایس پی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ فرد کو سن کر 45 روز میں قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے پوائنٹ آف سیل (PoS) ایجنٹ کی جانب سے آئی ڈی بلاک ہونے کے خلاف دائر کردہ شکایت کنزیومر پروٹیکشن قوانین کے تحت قابلِ سماعت نہیں ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بی آئی ایس پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ بی آئی ایس پی اور ریٹیلر کے درمیان تعلق 'صارف اور سروس فراہم کنندہ' کا نہیں ہے، لہذا کنزیومر کورٹ اس معاملے پر دائرہ اختیار نہیں رکھتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ اور کنزیومر پروٹیکشن کورٹ بنوں کے ان احکامات کو کالعدم قرار دے دیا جن میں بینک الفلاح اور بی آئی ایس پی کو ایجنٹ کی آئی ڈی بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ شکایت کنندہ خود ایک سروس فراہم کنندہ ہے، نہ کہ کوئی ایسا صارف جسے کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہو۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بی آئی ایس پی کے ریکارڈ کے مطابق شکایت کنندہ کا نام بنوں ڈسٹرکٹ کے لیے مقرر کردہ ایجنٹس کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھا، جس سے اس کے دعوے کی بنیاد کمزور پڑ جاتی ہے۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے کنزیومر قانون کے تحت شکایت کو مسترد کر دیا، تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کے ڈائریکٹر جنرل (کیش ٹرانسفر) کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ایجنٹ فردیاز خان کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ بی آئی ایس پی حکام 45 دن کے اندر اس معاملے پر انکوائری مکمل کریں اور اگر ایجنٹ کے خلاف کوئی شکایات موصول ہوئی ہیں تو اسے سامنے لا کر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ کریں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کنزیومر پروٹیکشن قوانین کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں صارفین کو دھوکہ دہی، غیر منصفانہ کاروباری ہتھکنڈوں اور ناقص مصنوعات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قوانین جدید معاشرے میں اس لیے ضروری ہیں تاکہ طاقتور کاروباری اداروں اور صارفین کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔ چونکہ اس کیس میں بنیادی تعلق ہی کنزیومر کے زمرے میں نہیں آتا تھا، اس لیے عدالت نے کیس کو عدم پیروی کی بنا پر خارج کرنے کا حکم دیا۔