LIVE
Loading Breaking News...

بی آئی ایس پی وظیفے میں کٹوتی: مستحق خواتین کا استحصال اور حکومتی اقدامات

News Image
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو ایجنٹس کی جانب سے وظیفے میں سے بھاری کٹوتیاں کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ حکام نے اس مسئلے کے تدارک کے لیے سوشل پروٹیکشن والیٹ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت ملک بھر میں لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، لیکن حالیہ عرصے میں ایجنٹس کی جانب سے مستحق خواتین کی رقوم میں سے غیر قانونی کٹوتیوں کی شکایات نے ایک سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ حیدرآباد اور سندھ کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد خواتین نے شکایت کی ہے کہ جب وہ اپنا سہ ماہی وظیفہ وصول کرنے جاتی ہیں تو متعلقہ ایجنٹس ان کی رقم سے زبردستی 1500 سے 2000 روپے تک کاٹ لیتے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ احتجاج کریں تو انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں یا رقم دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مجبوری میں کم رقم لینے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک ضلع حیدرآباد میں 44 ہزار کے قریب مستحقین موجود ہیں۔ اگر ہر مستحق خاتون سے دو ہزار روپے کی کٹوتی کی جائے تو یہ ایک بڑی رقم بنتی ہے جو غیر قانونی طور پر ایجنٹس کی جیب میں جا رہی ہے۔ بی آئی ایس پی کے ضوابط کے مطابق وظیفے کی ادائیگی بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم کیمپ سائٹس اور نجی دکانوں پر کام کرنے والے ایجنٹس اس نظام کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے ان شکایات کا ازالہ کروانا ایک مشکل عمل ہے، کیونکہ وہ قانونی پیچیدگیوں سے ناواقف ہوتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر بی آئی ایس پی انتظامیہ نے کٹوتیوں کے خاتمے کے لیے 'سوشل پروٹیکشن والیٹ' متعارف کروایا ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد مستحقین کو براہ راست بینکنگ سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ ایجنٹس اور مڈل مین کا کردار ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اب تک 94 فیصد مستحق خواتین کو سمز فراہم کر دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام فعال ہونے سے رقوم کی خوردبرد کا سلسلہ رک جائے گا۔ اس نظام کے تحت خواتین اپنی مرضی کے مطابق بینک سے رقم نکلوا سکیں گی، جس سے ان کا استحصال کم ہوگا۔ اگرچہ شکایات کے ازالے کے لیے 'انٹیگریٹڈ گریونس مینجمنٹ سسٹم' موجود ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس سسٹم میں مکمل ڈیٹا کی عدم دستیابی کے باعث کٹوتیوں کی تصدیق کرنا چیلنج بنا ہوا ہے۔ بی آئی ایس پی کی جانب سے بینکوں اور ایجنٹس کی نگرانی کا عمل بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ بلیک لسٹ ہونے والے افراد دوبارہ اس نظام کا حصہ نہ بن سکیں۔ حکومتی سطح پر یہ کوششیں جاری ہیں کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے، تاہم جب تک نچلی سطح پر نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال نہیں ہوتا، تب تک مستحقین کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے۔