LIVE
Loading Breaking News...

مودی نیتنیاہو ٹیلیفونک رابطہ: بھارت کا ایران جنگ پر موقف واضح

News Image
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتنیاہو کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے کے بعد سابق سفارت کاروں نے اہم تبصرہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کا موقف امن اور مذاکرات کی حمایت پر مبنی ہے۔
مغربی ایشیا کا بحران ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں تمام فریقین کے پاس یہ انتخاب ہے کہ یا تو کشیدگی میں مزید اضافہ کیا جائے یا پھر اسے کم کرکے مذاکرات کے ذریعے کسی حل کی طرف بڑھا جائے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے بعد عالمی سطح پر مختلف تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک سابق سفارت کار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتنیاہو کی جانب سے دیے جانے والے بعض بیانات بالکل غیر ضروری تھے، کیونکہ بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی اور موجودہ موقف کسی بھی طرح سے ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مغربی ایشیا کی صورتحال اب ایک دواہے پر کھڑی ہے جہاں خطے کے ممالک اور عالمی طاقتوں کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں بھارتی قیادت کا مؤقف ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور دینا رہا ہے۔ بھارت توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتا جو خطے کو مزید تباہی کی طرف لے جائے یا کسی بڑی جنگ کا باعث بنے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا اسرائیلی ہم منصب سے رابطہ جہاں دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں تھا، وہیں اس میں خطے کے امن کا نکتہ بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کے دیرینہ تعلقات ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ رہے ہیں، اس لیے دہلی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فریق کی عسکری مہم جوئی کی حمایت سے گریز کرے۔ سابق سفارت کار کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی عوام اور پالیسی ساز خطے میں جنگ کے بجائے صلح جوئی اور باہمی بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ مغربی ایشیا کے فریقین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کون سے عملی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ عالمی برادری بھی اس کوشش میں ہے کہ خطے میں جاری کشمکش کو سفارتی ذرائع سے ختم کیا جائے تاکہ معاشی اور انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔ بھارت کا مؤقف اس سلسلے میں واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور تمام تنازعات کو میز پر بیٹھ کر ہی سلجھایا جانا چاہیے۔