LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں زرعی فضلے سے منافع کمانے کے مواقع

News Image
بھارت میں ہر سال 350 ملین ٹن زرعی فضلہ پیدا ہوتا ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قیمتی کموڈیٹی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔
بھارت میں زرعی شعبے سے حاصل ہونے والے فضلے کی مقدار انتہائی وسیع ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں ہر سال تقریباً 350 ملین ٹن زرعی فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس فضلے میں دھان کی پرالی، گنے کے چھلکے، ناریل کے خول، کیلے کے تنے، چاول کی بھوسی، کپاس کے ڈنٹھل اور سپاری کا فضلہ شامل ہیں۔ روایتی طور پر اس فضلے کی بڑی مقدار کو جلا دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ ماحول میں شدید آلودگی بھی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم، ماہرین اب اسے ایک 'فضلہ' نہیں بلکہ ایک 'قیمتی وسیلہ' قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں بھارت کی اگلی بڑی تجارتی کموڈیٹی بن سکتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی جانب سے اس فضلے کو مختلف صنعتوں میں استعمال کرنے کے لیے نئی تحقیق پر کام کیا جا رہا ہے۔ زرعی فضلے سے بائیو فیول، بائیو پلاسٹک، کاغذ، پیکیجنگ میٹریل اور یہاں تک کہ عمارتوں کی تعمیر کے لیے ماحول دوست بلاکس بنانے کی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اگر اس فضلے کو مناسب طریقے سے جمع اور پراسیس کیا جائے تو یہ کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ موجودہ وقت میں جب دنیا پائیدار توانائی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے کوشاں ہے، تب بھارت کے لیے یہ زرعی فضلہ معاشی بہتری کا ایک اہم ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے لیے لاجسٹکس اور سپلائی چین کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ زرعی فضلہ پورے ملک میں بکھرا ہوا ہوتا ہے، اس لیے اسے اکٹھا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کی مدد سے اس رکاوٹ کو دور کیا جا رہا ہے۔ کئی کمپنیاں اب دیہی علاقوں میں کولیکشن سینٹرز قائم کر رہی ہیں تاکہ کسانوں سے براہ راست فضلہ خریدا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف دیہی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ ملک میں گردشی معیشت یعنی سرکلر اکانومی کے تصور کو فروغ دے گا۔ آنے والے سالوں میں اگر اس صلاحیت کو صحیح معنوں میں بروئے کار لایا گیا، تو زرعی فضلہ بھارت کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں ایک اہم مقام حاصل کر لے گا۔