LIVE
Loading Breaking News...

نایاب بیماریوں کے علاج میں امریکا کی پوزیشن کمزور: کانگریسی رپورٹ

News Image
امریکی کانگریس کے ایک مشاورتی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ فنڈنگ اور ریگولیٹری رکاوٹوں کے باعث نایاب بیماریوں کے علاج تک مریضوں کی رسائی محدود ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا عالمی سطح پر اس شعبے میں اپنی قائدانہ حیثیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیشن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں جس کے مطابق امریکا اب نایاب بیماریوں کے علاج کی تحقیق اور تیاری میں اپنی عالمی برتری کو تیزی سے کھو رہا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جدید ترین طبی تھراپیز تیار ہونے کے باوجود وہ وقت پر امریکی مریضوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ فنڈنگ کے نظام میں خلا، ڈیٹا کی عدم دستیابی، پیچیدہ ریگولیٹری قوانین اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں موجود رکاوٹیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نایاب امراض، جو کہ بظاہر چھوٹے پیمانے پر اثر انداز ہوتے ہیں، درحقیقت طبی سائنس کی جدت کا ایک اہم پیمانہ ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے تو امریکا ان اہم طبی ایجادات کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔ کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کے لیے مختص فنڈز کا درست استعمال نہ ہونا اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے سخت اور غیر لچکدار پالیسیاں، نئی ادویات کی منظوری کے عمل کو سست کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کا ایک اور منفی پہلو مینوفیکچرنگ صلاحیت کا فقدان ہے۔ نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی بائیولوجیکل مصنوعات کو مخصوص اور انتہائی جدید سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے، جن کی امریکا میں اس وقت شدید کمی پائی جاتی ہے۔ کمیشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ان بنیادی ڈھانچوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنائے تاکہ تحقیق سے لے کر مریض تک علاج کی فراہمی کا عمل تیز اور شفاف ہو سکے۔ آخر میں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈیٹا کے تبادلے کے نظام کو جدید بنایا جائے تاکہ محققین کو بیماریوں کے پیٹرن سمجھنے میں مدد مل سکے۔ اگر امریکا نے اپنی طبی حکمت عملی میں فوری تبدیلیاں نہ لائیں تو نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق رہے گا بلکہ عالمی طبی منڈی میں امریکا کا اثر و رسوخ بھی کم ہو جائے گا۔ حکام اب اس معاملے پر قانون سازی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس بحرانی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔