LIVE
Loading Breaking News...

سروس ناؤ کا اے آئی ٹیکنالوجی سے ڈیڑھ ارب ڈالر ریونیو کا ہدف

News Image
سروس ناؤ انڈیا کے سینئر نائب صدر سمیت ماتھر کا کہنا ہے کہ اے آئی مصنوعات پر آنے والی ٹوکنائزیشن لاگت درحقیقت ٹیکنالوجی کے معیار کو بہتر بنائے گی۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اگلے سال کے اختتام تک اے آئی مصنوعات سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا ریونیو حاصل ہو جائے گا۔
سروس ناؤ انڈیا ٹیکنالوجی اینڈ بزنس سینٹر کے سینئر نائب صدر اور منیجنگ ڈائریکٹر سمیت ماتھر نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری پیشرفت اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں ٹوکنائزیشن کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری درحقیقت طویل مدت میں کام کے معیار کو بہتر بنانے اور اسے مزید شفاف اور موثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ سمیت ماتھر کے مطابق، یہ لاگت کسی رکاوٹ کے بجائے ٹیکنالوجی کو بہتر سے بہترین بنانے کا ایک حصہ ہے۔ کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے سمیت ماتھر نے واضح کیا کہ سروس ناؤ اپنے مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے سامنے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اگلے سال کے اختتام تک صرف اپنی مصنوعی ذہانت سے متعلقہ مصنوعات کے ذریعے 1.5 ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ یہ ہدف ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ کس طرح تیزی سے اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ماڈلز میں ضم کر رہا ہے اور مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، سروس ناؤ کا یہ ہدف ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سمیت ماتھر کا خیال ہے کہ ٹوکنائزیشن کی لاگتیں ایک فطری عمل ہیں جو جدید ترین سافٹ ویئر اور خودکار نظاموں کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، ان اخراجات کا اثر کم ہوتا جائے گا اور پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ آخر میں، سروس ناؤ کا یہ عزم کہ وہ اے آئی مصنوعات سے ڈیڑھ ارب ڈالر کمائے گا، نہ صرف کمپنی کی تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں کاروباری دنیا مکمل طور پر اے آئی پر مبنی خدمات کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ سمیت ماتھر کی قیادت میں انڈیا ٹیکنالوجی اینڈ بزنس سینٹر اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کی کمپنی بلکہ مجموعی طور پر ٹیکنالوجی انڈسٹری کو نئی جہتیں ملیں گی۔