LIVE
Loading Breaking News...

میڈی کیئر کی نئی پالیسی: طبی امپلانٹس کا ریکارڈ لازمی قرار

News Image
میڈی کیئر نے ایک نئے ضابطہ کار کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہسپتالوں کو مریضوں میں نصب کیے جانے والے طبی آلات کا تفصیلی ڈیٹا رکھنے کا پابند بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد کسی بھی طبی خرابی کی صورت میں متاثرہ مریضوں کی فوری شناخت کو ممکن بنانا ہے۔
امریکہ کے سرکاری ہیلتھ پروگرام 'میڈی کیئر' نے مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت، ہسپتالوں کو اب اس بات کا پابند بنایا جا رہا ہے کہ وہ ہر اس مریض کا ریکارڈ رکھیں گے جس کے جسم میں کوئی بھی مصنوعی طبی آلہ یا امپلانٹ، جیسا کہ ہپ امپلانٹ، پیس میکر، یا سرجیکل میش، نصب کیا گیا ہو۔ اس سے قبل، طبی آلات میں خرابی کی صورت میں ہسپتالوں کو اکثر یہ جاننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ آیا کوئی خاص ناقص آلہ کس مریض کے جسم میں موجود ہے، جس کی وجہ سے بروقت کارروائی کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ میڈی کیئر کے مالی سال 2027 کے ان پیشنٹ ریگولیشنز کے تحت، ہسپتالوں کو ان آلات کے سیریل نمبرز اور دیگر تکنیکی تفصیلات کو اپنے مریضوں کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد کسی بھی طبی آلے کی واپسی (recall) کی صورت میں متاثرہ مریضوں تک فوری رسائی حاصل کرنا ہے۔ جب کوئی کمپنی کسی طبی آلے میں خرابی کی نشاندہی کرتی ہے، تو اب ہسپتال آسانی سے اپنے ریکارڈ سے دیکھ سکیں گے کہ یہ آلہ کن مریضوں کو لگایا گیا تھا، جس سے مریضوں کو لاحق خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔ ماہرین صحت نے میڈی کیئر کے اس فیصلے کو مریضوں کی حفاظت کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ طویل عرصے سے یہ شکایت کی جا رہی تھی کہ طبی آلات کی ٹریکنگ کا نظام کمزور ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں جانوں کو خطرات لاحق ہوتے تھے۔ نئے قواعد و ضوابط نہ صرف ہسپتالوں کی انتظامی ذمہ داریوں میں اضافہ کریں گے بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنائیں گے۔ اس ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ سے ڈاکٹرز اور سرجنز بھی اپنے کیے گئے آپریشنز کے نتائج پر زیادہ بہتر انداز میں نظر رکھ سکیں گے۔ یہ پالیسی آنے والے برسوں میں پورے ہیلتھ کیئر سسٹم میں ایک نیا معیار قائم کرے گی۔ میڈی کیئر کا ماننا ہے کہ مریضوں کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں کسی بھی ایسے طبی آلے کے بارے میں فوری اطلاع ملے جو ان کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ ہسپتالوں کے لیے یہ کام تکنیکی طور پر ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے یہ ایک ناگزیر اقدام ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے جائیں گے تاکہ ہسپتال اپنی انتظامیہ کو اس نئے نظام سے ہم آہنگ کر سکیں۔