Technology
ارورہ تھراپیوٹکس نے جین ایڈیٹنگ کا مرکزی منصوبہ بند کر دیا
جین ایڈیٹنگ پر کام کرنے والی نئی کمپنی ارورہ تھراپیوٹکس نے اپنے قیام کے صرف سات ماہ بعد اپنے مرکزی پروجیکٹ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کمپنی کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرنے والی ایک نئی اسٹارٹ اپ کمپنی 'ارورہ تھراپیوٹکس' نے اپنے قیام کے محض سات ماہ بعد ہی اپنے مرکزی پروگرام کو ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے ساتھ ہی کمپنی نے اپنے ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا ہے، جو بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد بنیادی طور پر ایک کامیاب کلینیکل تجربے کو بنیاد بنا کر رکھی گئی تھی جس میں ایک مریض کے جینیاتی عارضے کا علاج کامیابی سے کیا گیا تھا۔ ارورہ تھراپیوٹکس کا مقصد اس کامیاب تجربے کو ایک قابلِ تکرار اور تجارتی پیمانے پر استعمال ہونے والے علاج میں تبدیل کرنا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، تحقیقات اور تجرباتی مراحل کے دوران کچھ تکنیکی مشکلات اور کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی کے باعث اس منصوبے کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ بائیو ٹیک سیکٹر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جین ایڈیٹنگ اسٹارٹ اپس کو ابتدائی مراحل میں فنڈنگ کے مسائل اور سائنسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کئی کمپنیاں اپنے پروجیکٹس کو سمیٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ارورہ تھراپیوٹکس کا یہ قدم ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک انتہائی جدید اور پیچیدہ سائنسی عمل کو تجربہ گاہ سے کلینیکل آزمائش تک لے جانا مالی اور تکنیکی لحاظ سے ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔
ملازمین کی برطرفی کے اس فیصلے سے کمپنی کی مستقبل کی سمت کے بارے میں بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کمپنی نے اپنے دیگر منصوبوں یا مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں ابھی تک مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، تاہم صنعت کے مبصرین کا خیال ہے کہ ارورہ تھراپیوٹکس اب اپنے اثاثوں کو بچانے اور کسی نئی سمت پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرے گی۔ جین ایڈیٹنگ کی صنعت میں اس طرح کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں، کیونکہ یہ شعبہ اپنی نوعیت میں انتہائی مہنگا اور طویل المدتی نتائج کا متقاضی ہے۔
واضح رہے کہ جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی جیسے کہ CRISPR، جدید طب میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کے لیے سخت ریگولیٹری تقاضوں اور غیر معمولی سائنسی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ارورہ تھراپیوٹکس کا یہ حالیہ اقدام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہائی ٹیک بائیو میڈیکل اسٹارٹ اپس کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے کس قدر شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا کمپنی کسی متبادل پلان کے ساتھ دوبارہ سامنے آتی ہے یا یہ بندش اس کے اختتام کا پیش خیمہ ہے۔