LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے گاؤں میں داخلہ، رکاوٹیں تعمیر

News Image
اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان کے ایک دیہی علاقے میں داخل ہو کر عارضی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کی کوششوں کو ایک نئی تشویشناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں جاری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب مقامی ذرائع اور دیہاتی میئرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی دستے لبنانی فوج کے زیر کنٹرول دیہاتوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ان دیہاتوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر عارضی رکاوٹیں اور فوجی چوکیاں قائم کر دی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بیروت میں امریکی خصوصی ایلچی کی آمد متوقع ہے، جن کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے جنوبی لبنان میں یہ پیش قدمی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ممکنہ طور پر بفر زون قائم کرنا یا حزب اللہ کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہو سکتا ہے۔ لبنانی حکام نے اس پیش قدمی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ اقدام براہ راست لبنانی خودمختاری کی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔ مقامی میئر کے مطابق، اسرائیلی بلڈوزروں اور فوجی گاڑیوں کو دیہی علاقوں کی مرکزی سڑکوں پر دیکھا گیا ہے، جس سے نہ صرف نقل و حمل متاثر ہوئی ہے بلکہ امدادی کاموں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دریں اثنا، امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کے فارمولے اور 'پائلٹ زونز' کے قیام کی تجاویز پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں اور جب تک اسرائیلی افواج سرحدی دیہاتوں سے پیچھے نہیں ہٹتیں، تب تک کسی بھی قسم کی جنگ بندی کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں لبنانی شہری اب بھی اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں، تاہم جاری عسکری کارروائیوں نے ان کی امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔