World
ایران اور امریکہ تعلقات: مسعود پزشکیان کا سفارتی حل پر زور
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عمان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ جاری تناؤ کے خاتمے اور تعطل کو توڑنے کی امید ظاہر کی ہے۔ وہ خطے میں سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کے خواہاں ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ عمان کی ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری 'نہ جنگ نہ امن' کی کیفیت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جاری تناؤ، جو پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو چکا ہے، اب ایک ایسے مقام پر ہے جہاں دونوں ممالک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ مسعود پزشکیان کا یہ بیان ان کی نئی حکومت کی اس پالیسی کا عکاس ہے جس میں وہ سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا واحد ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
عمان تاریخی طور پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی صورتحال انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب اس تعطل سے نکلنے کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہے تاکہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر تنہائی کو ختم کیا جائے۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اسے ایران کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے، لیکن کسی بھی سطح پر براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا آغاز خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ ایک نئے سرے سے تعلقات قائم کرنا ایک بڑی چیلنج ہے۔ صدر پزشکیان کی یہ کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تہران اب روایتی محاذ آرائی کے بجائے 'تعمیری تعامل' کے ذریعے قومی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔
اس صورتحال میں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا امریکہ انتظامیہ اس پیشکش کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ عالمی طاقتیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی براہ راست اثر انداز ہوگی۔ آنے والے ہفتوں میں عمان کی جانب سے ہونے والی سفارتی سرگرمیوں سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا واقعی یہ 'نہ جنگ نہ امن' کا دور اپنے اختتام کو پہنچے گا یا یہ محض ایک سفارتی بیان بازی تک محدود رہے گا۔