LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

News Image
وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کے اعلانات کے باوجود ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت ٹینڈر جاری نہ ہونے کے باعث عام صارفین کو مہنگائی کا سامنا ہے۔
پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں جاری مسلسل اضافہ عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن چکا ہے۔ سینسیٹو پرائس انڈیکس (SPI) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے، 10 کلو گندم اور ایک کلو فائن آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2700 سے 3000 روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ دیگر شہروں خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی میں صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں صارفین کو 20 کلو آٹے کے تھیلے کے لیے 3133 روپے تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ حکومت نے گندم کی قلت پر قابو پانے کے لیے مجموعی طور پر ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں سندھ کابینہ نے بھی 5 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دی ہے۔ تاہم، تاجر برادری اور مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت درآمدی ٹینڈر جاری کرنے میں غیر معمولی تاخیر کر رہی ہے۔ کراچی ہول سیلرز گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم کے مطابق، جب تک ٹینڈر جاری ہوں گے اور گندم پاکستان پہنچے گی، تب تک کافی دیر ہو چکی ہوگی، جس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ صارفین کو نہیں پہنچ سکے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے پہلے ہی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے درآمدی گندم کی آمد سے قبل مقامی منڈیوں میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ صوبوں کی جانب سے اپنی ضروریات کے مطابق گندم کے کوٹے کا تعین تو کر لیا گیا ہے، لیکن عملی اقدامات کے فقدان نے عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مارچ 2027 تک نئی فصل کی آمد تک صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کو اب فوری اور ہنگامی بنیادوں پر درآمدی عمل کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کو نہ صرف درآمدی عمل کو شفاف اور تیز بنانا ہوگا بلکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانی ہوگی۔ بصورت دیگر، آٹے کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ ملکی معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا اور غریب طبقے کے لیے بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔ عوام کی امیدیں اب حکومتی فیصلوں کی فوری اور مؤثر عمل درآمد پر ٹکی ہوئی ہیں۔