Politics
صحافت پر پابندیاں اور پاکستان کا بدلتا میڈیا منظرنامہ
پاکستان میں صحافیوں کے لیے سفری پابندیوں اور عالمی خبر رساں اداروں کی بندش پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسائل حل ہونے کے بجائے ریاست کا تاثر مزید متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان میں صحافت اور میڈیا کی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیاں ایک اہم بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔ چند ماہ قبل جب اسلام آباد میں غیر ملکی نامہ نگاروں کی بڑی تعداد موجود تھی، تو ان کے لیے کام کرنا کافی آسان تھا اور انہیں حکومتی سطح پر سہولیات بھی میسر تھیں۔ تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ این او سی (NOC) حاصل کیے بغیر اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر سفر نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ مقامی فکسرز، مترجمین اور کیمرہ آپریٹرز کے لیے حکومتی پورٹل پر رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف صحافتی آزادی کو سلب کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، الجزیرہ جیسے عالمی نشریاتی اداروں کی بندش بھی انہی پالیسیوں کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ یہ اقدام 'متعصبانہ رپورٹنگ' کے خلاف کیا گیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ پابندیاں کسی بھی خبر کو دبانے میں ناکام رہتی ہیں۔ ماضی میں یوٹیوب، ایکس (سابقہ ٹویٹر) اور دیگر ویب سائٹس پر پابندیاں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کا بہاؤ نہیں روکا جا سکتا۔ جب مستند صحافت کو محدود کیا جاتا ہے، تو خلا کو غیر مصدقہ اور سستی اطلاعات پر کر لیا جاتا ہے، جس سے افواہوں کا بازار گرم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پابندیوں سے خبر تو نہیں رکتی، لیکن عوام کے سامنے یہ تاثر ضرور ابھرتا ہے کہ ریاست کے پاس چھپانے کے لیے کچھ ہے۔
صحافتی تنظیموں اور عالمی نشریاتی اداروں جیسے بی بی سی نے ان اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق، ان کے لیے پاکستان میں مقامی عملے اور صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت ضروری ہے تاکہ وہ عام شہریوں کی آواز پہنچا سکیں۔ پابندیوں کے نتیجے میں الٹا یہ ہوا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کے خلاف منفی کوریج میں اضافہ ہوا ہے، جس سے حکومتی دعووں کی نفی ہوتی ہے۔ ایک خود اعتماد ریاست کو اپنی بات منوانے کے لیے کمرہ خالی کرنے یا صحافیوں کو خاموش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرتی ہے۔
آخر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں کیا حاصل کرتی ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی میڈیا پر قدغن لگائی گئی، اس کا نتیجہ صرف عالمی سطح پر تنقید اور داخلی سطح پر بے چینی کی صورت میں نکلا ہے۔ جب صحافیوں کو حقائق تلاش کرنے سے روکا جائے گا، تو معاشرے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگا جہاں صرف ایک رخ کی کہانی سنائی جائے گی، جس پر یقین کرنا کسی کے لیے بھی مشکل ہوگا۔ پاکستان کو ایک ایسے میڈیا ماحول کی ضرورت ہے جہاں صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بلا خوف و خطر انجام دے سکیں، کیونکہ جمہوریت کی مضبوطی کا انحصار آزادانہ اور شفاف صحافت پر ہی ہے۔