LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں دہشت گردی: فوجی آپریشنز اور زمینی حقائق کا تضاد

News Image
پاکستان بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری شدید آپریشنز کے باوجود پرتشدد واقعات میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف عسکری طاقت کا استعمال کافی نہیں بلکہ ایک مربوط حکمت عملی اور سیاسی استحکام وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انتہائی مستعدی اور شدت کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے لے کر بڑے پیمانے کی کارروائیوں تک، سکیورٹی فورسز کی سرگرمیوں میں مسلسل تیزی آ رہی ہے، تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی۔ جولائی کا مہینہ اس سال دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ پرتشدد ثابت ہوا، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ سوات میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والا خودکش دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اب ان علاقوں تک پہنچ چکے ہیں جنہیں ماضی میں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف جولائی کے مہینے میں پاکستان بھر میں 26 انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کیے گئے جن میں 205 دہشت گرد ہلاک ہوئے، مگر گرفتار ہونے والے مشتبہ افراد کی تعداد انتہائی کم رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی زیادہ شرح اور گرفتاریوں کی کمی اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست کی حکمت عملی میں انٹیلی جنس اور تفتیشی پہلوؤں کے مقابلے میں مہلک طاقت کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ گرفتاریوں کے ذریعے دہشت گردوں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور نیٹ ورکس تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد ان اہم رازوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ مزید برآں، سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے متاثر ہونے کی شکایات نے مقامی آبادی میں بداعتمادی کو جنم دیا ہے، جس سے دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں مذہبی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ دیگر علیحدگی پسند گروہ بھی بیک وقت ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ طویل سرحدیں، مشکل جغرافیائی حالات اور کمزور انتظامی موجودگی دہشت گردوں کو نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ تاہم جغرافیہ صرف ایک پہلو ہے؛ اصل مسئلہ سیاسی محرومی، سماجی و اقتصادی پسماندگی اور عوامی خدمات کے فقدان کا ہے، جو مایوس نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلتا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس اب جدید آلات جیسے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا ہونا بھی ایک نیا خطرہ ہے جو سکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج میں اضافہ کر رہا ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی علاقے کو سینیٹائز کرنا اور اسے محفوظ بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ محض دہشت گردوں کو مارنے سے اس نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کو ایک ایسی مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جو فوجی کامیابیوں کو دیرپا سیاسی و سماجی استحکام میں بدل سکے۔ جب تک ریاست مقامی آبادی کے خدشات کو دور نہیں کرتی اور حکمرانی کے معیار کو بہتر نہیں بناتی، محض فوجی دباؤ سے دہشت گردی کے عفریت کو مکمل طور پر شکست دینا ممکن نہیں ہوگا۔ افغان سرحد پر دباؤ اپنی جگہ، مگر اندرونی گورننس کے نقائص کو درست کرنا ہی دیرپا امن کی واحد کنجی ہے۔