World
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا نیا اتحاد
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں سکیورٹی کی نئی صورتحال کو جنم دے رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ اب تک امریکہ کا دفاعی حصار خلیجی ریاستوں کے لیے توقعات کے مطابق تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی فوجی اثاثوں کی موجودگی نے الٹا ان ممالک کو علاقائی تنازعات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے نشانے پر ہیں۔ اس نئے معاہدے کے تحت یہ طے پایا ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ ایک گہری سٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسے ایک 'تاریخی' قدم قرار دیا ہے جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد دوست ممالک کے لیے کھلا رہے گا۔
تجزیہ کار اس معاہدے کو 'اسلامی نیٹو' کے طور پر دیکھنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ماضی میں اس طرح کی کوششیں (جیسے 2015 میں بننے والا اسلامی فوجی اتحاد) بڑے پیمانے پر کسی ٹھوس آپریشنل نتائج دینے میں ناکام رہی تھیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، اور یہ نیا معاہدہ اس پرانی دوستی کو ایک نئی وسعت دے رہا ہے جس میں ترکی کی شمولیت اسے مزید مستحکم بناتی ہے۔ تاہم، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ اتحاد ایران کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر ڈالے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی عسکری محاذ یا فرقہ وارانہ بلاک کا قیام نہیں ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر نے بھی اس تعاون کو خطے کی سکیورٹی کے لیے ممکنہ طور پر سودمند قرار دیا ہے۔
اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے اور دشمنی دوبارہ بھڑکتی ہے، تو اس نئے اتحاد کا اصل امتحان شروع ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد مسلم ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کا باعث بنے نہ کہ نئی تقسیم پیدا کرے۔ خطے کے ممالک کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ امریکہ یا دیگر بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی سکیورٹی میکانزم پر توجہ دیں۔ ایران کو خلیجی ممالک پر حملے روکنے ہوں گے اور خلیجی ریاستوں کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔ آخر کار، جغرافیہ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کو ایک ساتھ رہنا ہے، لہذا باہمی بقائے باہمی اور امن کے لیے کام کرنا ہی واحد پائیدار راستہ ہے۔