LIVE
Loading Breaking News...

PRDM16 جین اور دل کے خلیات کی نشوونما: طبی تحقیق

News Image
سائنسی ماہرین نے ایک اہم تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ PRDM16 نامی جین انسانی دل کے خلیات کی تقسیم اور ان کی پختگی کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دریافت دل کے امراض کے علاج اور متاثرہ خلیات کی بحالی کے لیے مستقبل میں نئی راہیں ہموار کر سکتی ہے۔
کارڈیو ویسکولر بائیولوجی کے شعبے میں ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں دل کے خلیات یعنی کارڈیو مائیوسائٹس کی نشوونما کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق PRDM16 نامی جین انسانی دل کے خلیات کی تقسیم اور ان کی پختگی کے عمل کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس دیرینہ سوال کا جواب تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے کہ آخر دل کے پٹھوں کے خلیات ایک خاص عمر کے بعد تقسیم ہونا کیوں بند کر دیتے ہیں اور اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے کن عوامل پر انحصار کرتے ہیں۔ دل کی یہ فعالیت انسانی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ تاحیات دھڑکنے اور جسم کو خون فراہم کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔ تحقیق میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ جب انسانی دل کے خلیات ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں تو ان میں تقسیم ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ خلیات پختگی کی جانب بڑھتے ہیں تاکہ وہ مضبوطی سے دھڑک سکیں۔ PRDM16 جین اس عمل میں ایک 'سوئچ' کی طرح کام کرتا ہے جو خلیات کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کب انہیں اپنی تعداد بڑھانی ہے اور کب انہیں مکمل طور پر فعال اور پختہ ہونا ہے۔ اگر اس جین کے افعال میں خلل پیدا ہو جائے تو دل کے خلیات کی ساخت اور کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو دل کی ناکامی یا دیگر سنگین امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس جین کے جینیاتی میکانزم کا تفصیلی مشاہدہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح یہ جین خلیات کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج قلبی امراض کے علاج کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر محققین اس قابل ہو جائیں کہ تجربہ گاہ میں PRDM16 جین کی سرگرمی کو مصنوعی طور پر متحرک کر سکیں، تو یہ مستقبل میں دل کے دورے یا دیگر بیماریوں سے متاثر ہونے والے ٹشوز کی بحالی اور مرمت کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال یہ تحقیق بنیادی سطح پر ہے تاہم اس نے کارڈیالوجی کے میدان میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین اب یہ جائزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں کہ آیا اس جین کو دیگر طبی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ملا کر دل کے پٹھوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ سائنسی پیش رفت نہ صرف بائیولوجی کے طلبا کے لیے بلکہ دنیا بھر کے طبی ماہرین کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔