LIVE
Loading Breaking News...

AI سے محفوظ کیریئر: یونیورسٹی ڈگری یا عملی ہنر؟

News Image
آسٹریلیا کے 35 سالہ تعمیراتی ماہر برینڈن مورسے نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کی تعلیم کے بجائے عملی ہنر اور ٹریڈز کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں ٹیکنیکل پیشے کہیں زیادہ محفوظ اور مستقل آمدنی کا ذریعہ ہیں۔
آسٹریلیا کے ایک معروف تعمیراتی ماہر برینڈن مورسے نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کی روایتی ڈگریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے عملی ہنر یا ٹریڈز (Trades) کو اپنائیں۔ 35 سالہ برینڈن، جو کہ سٹائیو ماڈیولر کے بانی ہیں، کا ماننا ہے کہ انویسٹمنٹ بینکنگ اور کارپوریٹ شعبوں میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد مصنوعی ذہانت (AI) کے پھیلاؤ کے باعث اپنی ملازمتیں کھونے کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق، تکنیکی اور ہنرمندی والے پیشے مستقبل میں نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ ان کی مانگ میں مزید اضافہ ہوگا۔ برینڈن نے اپنے تجربے کی روشنی میں کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا سفر ایک ورکر کے طور پر شروع کیا اور آج وہ ایک کامیاب کاروبار چلا رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہاتھوں کا ہنر کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں جہاں مصنوعی ذہانت تیزی سے دفتری کاموں اور ڈیٹا اینالسٹس کی جگہ لے رہی ہے، برینڈن مورسے کا مؤقف ہے کہ تعمیراتی صنعت ایک ایسا شعبہ ہے جسے مشین مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے سفید پوش ملازمتوں (White-collar jobs) کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جبکہ پلمبنگ، الیکٹریشن اور تعمیراتی کاموں جیسے پیشے ہمیشہ انسان کی ضرورت رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں میں سالوں کی پڑھائی کے بعد بھی نوجوانوں کو مارکیٹ میں مناسب ملازمتیں نہیں مل رہیں، جبکہ ٹریڈز کے میدان میں ہنرمند افراد کی قلت ہے جس کی وجہ سے ان کی آمدنی اور کریئر کی ترقی کے مواقع کہیں زیادہ ہیں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے برینڈن نے کہا کہ 'ٹولز اٹھانا کتابیں پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔' ان کے مطابق، ایک ٹریڈ اپرنٹس کے طور پر کام شروع کرنے سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ کام کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے جو کہ ایک عملی تعلیم ہے۔ برینڈن مورسے کے اس بیان نے آسٹریلیا میں اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی نصاب میں عملی مہارتوں کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ ان کی تنقید ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو صرف ڈگریوں پر انحصار کر رہے ہیں، جبکہ دنیا اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں تکنیکی مہارت اور مصنوعی ذہانت کے خلاف مزاحمت رکھنے والے پیشے ہی کامیابی کی ضمانت بنیں گے۔