LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں تیزی، کیا یہ نئے بل رن کی شروعات ہے؟

News Image
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں سات فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ آٹھ ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں سرمایہ کاری کے رجحان اور امریکی معاشی اعداد و شمار نے اس تیزی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عالمی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر پرواز شروع کر دی ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران سونے کی قدر میں 7 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سونے کی سب سے بہترین ہفتہ وار کارکردگی ہے جس نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی کئی اہم وجوہات ہیں جن میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں، امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ شامل ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ نے بھی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی مانگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکہ میں ملازمتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں کا یہ یقین پختہ ہو گیا ہے کہ فیڈرل ریزرو جلد ہی شرح سود میں کمی کا اعلان کر سکتا ہے۔ شرح سود میں ممکنہ کٹوتی کی امیدیں ہمیشہ سونے کی قیمتوں کے لیے مثبت ثابت ہوتی ہیں کیونکہ اس سے ڈالر کی قدر پر دباؤ پڑتا ہے اور سونے کی خریداری سستی ہو جاتی ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر معاشی غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہتی ہے تو سونے کی یہ تیزی ایک طویل المدتی 'بل رن' (bull run) کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے تحت پیلی دھات کی قیمتیں مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری کا عمل بھی اس تیزی کا ایک بڑا محرک ہے۔ چین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سونا خرید رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مانگ نے عالمی منڈی میں سپلائی اور ڈیمانڈ کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر، موجودہ معاشی منظر نامہ سونے کے لیے انتہائی سازگار دکھائی دیتا ہے، اور سرمایہ کار مستقبل میں مزید منافع کی امید کر رہے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ تجزیہ کاروں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ عالمی سیاسی صورتحال میں اچانک تبدیلیوں کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو احتیاط کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں۔