LIVE
Loading Breaking News...

اسٹارٹ اپ ایکسلریٹر اور کاروباری کامیابی کی حقیقت

News Image
موجودہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر کاروباری ایکسلریٹر پروگرام اسٹارٹ اپس کی کامیابی کی ضمانت دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ البتہ کچھ اچھے ادارے مخصوص حکمت عملی کے ذریعے حقیقی معنوں میں نئی کمپنیوں کی مدد کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں نئے کاروباری آئیڈیاز کو پروان چڑھانے کے لیے اسٹارٹ اپ ایکسلریٹر پروگرامز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ ادارے عام طور پر ابتدائی سرمائے، بہترین رہنمائی، نیٹ ورکنگ اور تین ماہ کے سپورٹ پروگرام کی پیشکش کرتے ہیں تاکہ نئی کمپنیوں کی بقا کی شرح کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم حال ہی میں کی جانے والی متعدد تحقیقات اور ماہرین کے تجزیات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر وعدے حقیقت میں کارآمد ثابت نہیں ہوتے اور بعض اوقات یہ پروگرامز اسٹارٹ اپس کے لیے فائدے کے بجائے نقصان دہ بھی بن جاتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی کے محققین یون بیک اور دیپک ہیگڑے کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح روایتی ایکسلریٹر کمپنیاں نئی اور ابھرتی ہوئی کمپنیوں کو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق بہت سے ایکسلریٹر صرف دکھاوے کی حد تک سہولیات فراہم کرتے ہیں لیکن عملی میدان میں کاروباری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے اچھے ایکسلریٹرز ہیں جو واقعی مثبت تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نئی کمپنیوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب اور معیاری ایکسلریٹر ادارے صرف سرمائے کی تقسیم تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ بانیانِ کاروبار کو گاہکوں کی تلاش، مارکیٹ کے حقیقی تقاضوں کو سمجھنے اور مصنوعات کی تیاری میں گہری تکنیکی اور عملی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اچھے ادارے بغیر کسی غیر ضروری دباؤ کے طویل المدتی وژن پر کام کرتے ہیں اور اسٹارٹ اپس کو ایک مستحکم کاروباری ماوسڈ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جس سے ناکامی کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔