LIVE
Loading Breaking News...

وال سٹریٹ اور امریکی اسٹاک مارکیٹ: مہنگائی کا نیا ڈیٹا مارکیٹ کے لیے چیلنج

News Image
آئندہ ہفتے جاری ہونے والے مہنگائی کے اعداد و شمار امریکی اسٹاک مارکیٹ میں جاری تیزی کے رجحان کا امتحان لیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کی شرح سود کے بارے میں مستقبل کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
وال سٹریٹ میں سرمایہ کار اب آئندہ ہفتے جاری ہونے والے اہم مہنگائی کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کے حالیہ ریکارڈ ساز اضافے کے لیے ایک کڑے امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری تیزی اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں معاشی ڈیٹا کی بنیاد پر اسٹاکس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا قوی امکان ہے۔ اگر مہنگائی کی شرح توقعات سے زیادہ رہی تو یہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک منفی اشارہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صارفین کی قیمتوں کا انڈیکس براہ راست فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی کو متاثر کرتا ہے، جو طویل عرصے سے شرح سود کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہے۔ سرمایہ کار یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ آیا امریکی مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا عمل جاری رکھے گا یا مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر اسے برقرار رکھا جائے گا۔ دوسری جانب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ نے مارکیٹ کو کچھ حد تک سہارا دیا ہے۔ تاہم، افراطِ زر کے اعداد و شمار اب بھی مارکیٹ کے مجموعی مزاج کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کا یہ خیال ہے کہ اگر معاشی اعداد و شمار توقع کے مطابق رہے تو وال سٹریٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے، بصورت دیگر سرمایہ کاروں کو محتاط انداز اختیار کرنا پڑے گا۔ فیڈرل ریزرو کے سربراہان کے بیانات اور مہنگائی کی تازہ ترین رپورٹ آنے والے دنوں میں وال سٹریٹ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر اپنے پورٹ فولیو میں توازن رکھیں، کیونکہ ٹیکنالوجی اسٹاکس میں ہونے والا حالیہ اضافہ کسی بھی بڑے معاشی جھٹکے کے خلاف حساس ثابت ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اب تمام تر توجہ ان اہم معاشی اشاریوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ امریکی معیشت کس جانب گامزن ہے۔