LIVE
Loading Breaking News...

او آئی سی کا پاک سعودی ترکی دفاعی معاہدے پر خیرمقدم

News Image
تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کی بھرپور تحسین کی ہے۔ اس تاریخی سمجھوتے کو خطے میں امن اور اسٹریٹجک تعاون کے فروغ کے لیے ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔
تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے نئے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے کے موجودہ حالات میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تاریخی معاہدے پر مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے ہیں جس کا مقصد تینوں بڑے مسلم ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ مکہ معاہدے کے تحت سکیورٹی کے شعبے میں باہمی اشتراک کو وسعت دی جائے گی تاکہ خطے کو درپیش چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب نے مسلم دنیا کے اہم فوجی و دفاعی حریفوں اور اتحادیوں کے ساتھ یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ اگرچہ بعض مبصرین کی جانب سے اس اتحاد پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ترکی اور دیگر اتحادی ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ دفاعی اشتراک کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں استحکام لانے کے لیے ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی مسلح افواج کے مابین اس جامع سمجھوتے کے تحت مشترکہ عسکری مشقوں، دفاعی پیداوار اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پاکستان جو کہ ایک ایٹمی قوت ہے اور ترکی جو کہ ناٹو کا دوسرا بڑا فوجی ملک ہے، دونوں کا سعودی عرب کے ساتھ اس معاہدے میں شامل ہونا مسلم دنیا کے دفاعی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ او آئی سی کی جانب سے اس اقدام کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم امہ کے بڑے ممالک سلامتی کے امور پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہاں ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کے دور رس نتائج برآمد ہونے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ تینوں ممالک جدید ٹیکنالوجی، عسکری تربیت اور سرحدی سلامتی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ خطے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اتحاد سے نہ صرف اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف دفاعی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی تینوں ممالک ایک مضبوط آواز بن کر ابھریں گے۔ او آئی سی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے سے امت مسلمہ کے اتحاد کو مزید تقویت ملے گی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔