LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: مسلم لیگ ن کا دو تہائی اکثریت کا ہدف

News Image
پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے پونچھ ڈویژن کی نشستوں پر پولنگ 20 سے 21 اگست تک مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ عوامی حمایت کے پیش نظر ن لیگ نہ صرف حکومت سازی کی پوزیشن میں ہے بلکہ وہ ایوان میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اپنی گرفت مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پارٹی حکومت بنانے کے لیے درکار مطلوبہ تعداد سے محض چند نشستیں دور ہے، اور انہیں توقع ہے کہ انتخابی عمل کے اگلے مرحلے میں وہ مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں گے۔ آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں اس وقت گرما گرمی عروج پر ہے جہاں تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور بیانات کے مطابق، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پونچھ اور پلندری میں ملتوی ہونے والی پولنگ کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔ حکام نے 20 اور 21 اگست کے قریب ان نشستوں پر دوبارہ ووٹنگ کے انعقاد کا عندیہ دیا ہے تاکہ انتخابی عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے فول پروف انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور ووٹرز اپنا حق رائے دہی بلا خوف و خطر استعمال کر سکیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پونچھ ڈویژن کے نتائج آزاد کشمیر میں اگلی حکومت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اگرچہ کچھ حلقوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے، تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت پر امید ہے کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر مخالفین کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرے گی۔ دوسری جانب، رانا ثناء اللہ کی جانب سے جے اے اے سی (JAAC) کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں کو بھی سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ن لیگ حکومت سازی کے عمل کو ہموار کرنے کے لیے سیاسی ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کا اثر نہ صرف خطے کی سیاست پر پڑے گا بلکہ یہ وفاقی سطح پر بھی اہم سیاسی اثرات مرتب کریں گے، کیونکہ آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو عوامی مقبولیت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔