LIVE
Loading Breaking News...

چین کی جانب سے 2030 تک غیر فوسل توانائی کے اہداف کا اعلان

News Image
چین نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ملک نے 2030 تک اپنی بجلی کی نصف ضروریات کو قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے کا تہیہ کیا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل چین نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی حدت کو کم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایک اہم ہدف کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکومت کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار اور پالیسی دستاویزات کے مطابق ملک نے 2030 تک اپنی کل بجلی کی پیداوار کا کم از کم 50 فیصد حصہ غیر فوسل ذرائع سے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ملک کو پائیدار توانائی کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بیجنگ مسلسل شمسی، ہوائی، ہائیڈرو پاور اور جوہری توانائی کے منصوبوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چین کا یہ ہدف عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اگرچہ چین ماضی میں کوئلے پر مبنی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ملک نے سبز توانائی کی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں سبقت حاصل کر لی ہے۔ شمسی پینلز کی تیاری اور ونڈ ٹربائنز کی تنصیب میں چین پہلے ہی دنیا میں سر فہرست ہے۔ حکومت کی جانب سے اس نئے ہدف کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب روایتی ایندھن کے بجائے ماحول دوست توانائی کی طرف تیزی سے بڑھنا چاہتی ہے تاکہ عالمی ماحولیاتی معاہدوں کی پاسداری کی جا سکے۔ چین کا یہ عزم صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی صنعتی پیداوار کو بھی صاف ستھری توانائی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک مربوط کوشش ہے۔ توانائی کے ماہرین اس پیشرفت کو سراہ رہے ہیں، کیونکہ چین کی جانب سے قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری سے عالمی سطح پر ان ٹیکنالوجیز کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، اس ہدف کو حاصل کرنا ایک بڑی چیلنج بھی ہے، جس کے لیے ملک کو اپنی بجلی کی تقسیم کے گرڈ سسٹم کو جدید بنانا ہوگا اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ آخر میں، چین کی یہ حکمت عملی دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے دنیا موسمیاتی بحران کا سامنا کر رہی ہے، چین کا 2030 تک کا یہ ہدف عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو محدود کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں دنیا یہ دیکھے گی کہ چین کس طرح اپنی ٹیکنالوجی اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے توانائی کے اس بڑے ہدف کو حقیقت کا روپ دیتا ہے۔