LIVE
Loading Breaking News...

لیونل میسی والد کے انتقال پر ارجنٹائن پہنچ گئے

News Image
فٹ بال کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیونل میسی اپنے والد جارج میسی کے انتقال کے ایک روز بعد ارجنٹائن پہنچ گئے ہیں۔ میسی اپنی فیملی کے ہمراہ وطن واپس پہنچے ہیں تاکہ سوگوار خاندان کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
فٹ بال کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیونل میسی اپنے والد جارج میسی کے انتقال کے ایک روز بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ارجنٹائن پہنچ گئے ہیں۔ جارج میسی کے انتقال کی خبر سوشل میڈیا اور کھیلوں کی دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد دنیا بھر سے فٹ بال کے مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں نے لیونل میسی سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیونل میسی، جو اس وقت بین الاقوامی فٹ بال میں مصروف تھے، اپنے والد کے انتقال کی افسوسناک خبر ملتے ہی فوری طور پر ارجنٹائن روانہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق لیونل میسی کا اپنے والد کے ساتھ تعلق انتہائی گہرا اور جذباتی تھا، جنہوں نے ان کے ابتدائی کیریئر کے دوران ان کی بھرپور رہنمائی کی تھی۔ جارج میسی نہ صرف لیونل کے والد تھے بلکہ وہ ان کے کیریئر کے مختلف مراحل میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس مشکل گھڑی میں پوری دنیا سے لیونل میسی کے لیے تعزیتی پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ فٹ بال کلبز، فیفا اور دیگر معروف کھلاڑیوں نے لیونل میسی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس صدمے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ارجنٹائن پہنچنے کے بعد، میسی نے میڈیا اور مداحوں سے اپنی نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ سکیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ لیونل میسی کب تک ارجنٹائن میں قیام کریں گے یا وہ اپنی فٹ بال کی مصروفیات میں کب واپس لوٹیں گے۔ تاہم، مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر لیونل میسی کے لیے دعائیہ پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور وہ اس دکھ کی گھڑی میں اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیونل میسی کے کیریئر کی کامیابیوں میں جارج میسی کا کردار کلیدی رہا ہے، جس کی بدولت میسی آج فٹ بال کی تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد ارجنٹائن کے عوام بھی سوگوار ہیں اور اپنے قومی ہیرو کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ لیونل میسی اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس مشکل مرحلے سے جلد نکلنے کی ہمت پائیں گے۔