World
ایران کے نئے سفارتی مطالبات اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایک نئے معاہدے کی کوششوں کے دوران تہران نے سکیورٹی کے نئے مطالبات پیش کر دیے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے سخت شرائط عائد کی ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے ایک نئے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس عمل کے دوران تہران کی جانب سے سخت گیر مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستوں پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کے لیے نئی اور وسیع تر سکیورٹی شرائط کا تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ تہران کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عالمی طاقتیں سرگرم عمل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر پزشکیان اپنی انتظامیہ کے ذریعے مغرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے اور معاشی پابندیوں کو ختم کرنے کے خواہش مند ہیں، لیکن ایرانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ سفارتی مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ سکیورٹی حکام نے آبنائے ہرمز کی بحالی کو علاقائی سکیورٹی کے دیگر اہم معاملات کے ساتھ مشروط کر دیا ہے، جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے میں یکطرفہ نرمی کے بجائے متوازن اور مضبوط ضمانتوں کا متلاشی ہے۔ یہ مطالبات ظاہر کرتے ہیں کہ تہران اپنے سکیورٹی مفادات پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر خلیجی ممالک ان مطالبات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کا ایک اہم ترین مرکز ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کے بازاروں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ صدر پزشکیان کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی ملکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سخت مطالبات اور عالمی طاقتوں کی توقعات کے درمیان کس طرح ایک درمیانی راستہ نکالتے ہیں۔ ایران کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی شرائط بلاشبہ مذاکراتی عمل کی پیچیدگیوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔
آئندہ چند ہفتے ایران کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ اگر تہران اور عالمی طاقتیں ان سکیورٹی خدشات پر کسی متفقہ نکتے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ تاہم، اگر مطالبات کی یہ فہرست مزید طویل ہوئی تو سفارتی تعطل کے طویل ہونے کا خدشہ بھی برقرار ہے۔ عالمی برادری اب تہران کے اگلے اقدامات کی منتظر ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ مطالبات حتمی ہیں یا محض سودے بازی کی ایک تکنیک۔