LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد اور امریکی حکمت عملی

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین حالیہ دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اس سے امریکی مفادات پر کوئی اثر پڑے گا۔ کچھ ماہرین اسے مشرق وسطیٰ میں سٹریٹیجک توازن کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے امریکی اہداف سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین حال ہی میں ہونے والے دفاعی معاہدے نے نہ صرف خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بالخصوص امریکہ کے پالیسی ساز حلقوں میں بھی اس پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سہ فریقی تعاون دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے ایک ایسے بلاک کو تشکیل دے رہا ہے جو مستقبل میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیکورٹی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا اور خود انحصاری کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔ اس پیشرفت پر بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی آراء منقسم ہیں۔ ایک حلقہ اس معاہدے کو عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق، یہ اتحاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں اب صرف روایتی عالمی طاقتوں، بشمول امریکہ، پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے سٹریٹیجک اتحاد خود بنانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ تبدیلی امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ان ممالک کا آپس میں جڑنا امریکی سفارتی دباؤ کی تاثیر کو کم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایک اور ماہر گروپ کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی طرح امریکہ کے مفادات کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ امریکی اہداف کو تقویت دیتا ہے۔ اس نظریے کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ میں ایسے ممالک کا خواہشمند رہا ہے جو اپنی سیکورٹی کے ذمہ دار خود بنیں اور خطے میں استحکام لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس لیے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا ایک دوسرے کے قریب آنا درحقیقت ایک ایسے مستحکم خطے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو امریکی وژن کے مطابق پرامن ہو۔ یہ اتحاد کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں بلکہ خطے کی اجتماعی حفاظت کے لیے ہے۔ مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں اس دفاعی معاہدے کے عملی اثرات نمایاں ہوں گے۔ کیا یہ تینوں ممالک اپنے دفاعی اہداف میں یکسوئی پیدا کر پائیں گے یا امریکی دباؤ اس اتحاد کی رفتار کو سست کر دے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی جیسے اہم اسلامی ممالک کا دفاعی میدان میں ایک پیج پر آنا بین الاقوامی سیاست میں ایک نئے پاور ڈائنامک کو جنم دے رہا ہے جسے نظر انداز کرنا کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔