Pakistan
میر علی رضا کیس: نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل کے ثبوت مل گئے
کراچی میں نوجوان تاجر میر علی رضا کی قبر کشائی کے بعد کیے گئے نئے پوسٹ مارٹم میں ثابت ہوا ہے کہ انہیں خودکشی نہیں بلکہ پشت پر گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس کی جانب سے خودکشی کے دعووں کے برعکس طبی ماہرین نے جسم پر تشدد کے واضح نشانات کی تصدیق کی ہے۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر علی رضا کی موت کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے قبر کشائی کے بعد کیے گئے نئے پوسٹ مارٹم سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ میر علی رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ ایک سفاکانہ قتل تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں کیے گئے اس طبی معائنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مقتول کو پشت پر گولی ماری گئی تھی، جس سے وہ تمام دعوے دم توڑ گئے جن میں اس واقعے کو خودکشی قرار دیا جا رہا تھا۔ میر علی رضا، جو کہ مشہور فوڈ آؤٹ لیٹ وافلکس کے مالک تھے، 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے دن ان کی لاش گلستان جوہر کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
میڈیکل بورڈ کی سربراہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق، نئے پوسٹ مارٹم میں سر اور چہرے پر شدید چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جبکہ ناک کی ہڈی اور کھوپڑی میں فریکچر بھی موجود ہے۔ ان تفصیلات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میر علی رضا کو گولی مارنے سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بورڈ نے مختلف نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ اور جسم میں پائے جانے والے مشکوک سیاہ مادے کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ ڈاکٹر سمیہ سید نے تصدیق کی کہ گولی پشت سے داخل ہو کر سامنے سے نکلی تھی، جو خودکشی کے نظریے کو سو فیصد مسترد کرتی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد مقتول کے اہل خانہ کے وکیل ایڈوکیٹ جبران ناصر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پوری تفتیشی ٹیم کو تبدیل کیا جائے کیونکہ وہ شروع دن سے ہی معاملے کو خودکشی قرار دے کر خاندان کو ہراساں کر رہی تھی۔ وکیل کا کہنا ہے کہ مقتول کے جسم پر موجود زخموں کے نشانات اور منہ میں پایا گیا پراسرار مادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں شدید اذیت دی گئی۔ انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ افسران تفتیش کرنے کے بجائے غمزدہ خاندان کو مسلسل دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
مقتول کے والد میر حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی کہہ رہے تھے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس حقائق چھپانے کی کوشش کیوں کر رہی تھی؟ اب جب کہ میڈیکل رپورٹ نے قتل کی تصدیق کر دی ہے، اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ میر علی رضا کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ کیس اب ایک سنجیدہ موڑ پر آ چکا ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔