LIVE
Loading Breaking News...

ترکی اور مصر کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدے پر بات چیت

News Image
ترکی نے باضابطہ طور پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مصر جلد ہی ایک نئے دفاعی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات اور خطے میں سیکورٹی تعاون کے نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔
انقرہ اور قاہرہ کے درمیان بدلتی ہوئی سفارتی اور اسٹریٹجک صورتحال کے تناظر میں، ترکی نے باضابطہ طور پر اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ مصر جلد ہی ایک وسیع تر دفاعی معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ ترک حکام کے مطابق، دونوں ممالک خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے لیے باہمی دفاعی شراکت داری ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ پیشرفت برسوں کی تلخی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں آنے والی نمایاں بہتری کا نتیجہ ہے، جس نے اب عملی تعاون کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس دفاعی اتحاد کے امکانات کو مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ترک قیادت کا ماننا ہے کہ اگر مصر اور ترکی اپنے دفاعی وسائل اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو یکجا کر لیتے ہیں، تو یہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سمندری حدود کے تحفظ میں ایک کلیدی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ دونوں ممالک کے دفاعی ماہرین کے درمیان ابتدائی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد تکنیکی اور عسکری سطح پر تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ اگرچہ ابھی تک معاہدے کی حتمی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں، تاہم سیاسی مبصرین اسے ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور مصر کا اتحاد خطے کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں ترکی اپنی دفاعی صنعت میں خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے، وہیں مصر کا عسکری تجربہ اور جغرافیائی اہمیت دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنے گی۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ امور کے درمیان مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں اس دفاعی معاہدے کی شرائط اور مستقبل کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ یہ اتحاد نہ صرف دونوں ممالک کی اپنی سیکیورٹی کو مضبوط کرے گا بلکہ بحیرہ روم میں بھی ترکی کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔